| 86899 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میری شادی 16 دسمبر 2011 کو ہوئی۔ 12 جون 2019 کو جب میں کراچی سے کشمیر اپنے والدین کے گھر آئی،تو میرے شوہر نے مجھے فون کیا اور کہا "میں آپ کو اپنے بھائی کے سامنے طلاق دے رہا ہوں "صرف ایک بار کہہ کر فون بند کر دیا ۔میں نے تین مہینےتک شوہر کا انتظار کیا۔ اس کے بعد اس نے فون پر مجھے کہا کہ میں تمہیں بلاؤں گا لیکن پھرکوئی رابطہ نہیں کیا۔ پھر میرے کہنے پر میرے شوہر نے 10 مارچ 2020 کو مجھے طلاق نامہ پر تین طلاق لکھ کر واٹس ایپ پر بھیج دیا۔ اب نومبر 2024 کو انھوں نے رابطہ کیا اور دوبارہ نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی،جب کہ میں نے ابھی تک دوسری شادی نہیں کی ہے ۔ کیا اب میرے لئے اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح حلالہ کے بغیر جائز ہے ؟ کیا یہ طلاقیں تین دفعہ واقع ہو چکی ہیں یا ایک دفعہ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب شوہرنے12 جون 2019 کو فون پر ایک طلاق دی تواس سے ایک طلاق رجعی تو بہرحال واقع ہوگئی ہے، اگرعدت(تین ماہواریوں) کے اندر اندر شوہر نے رجوع کرلیاہو (زبان سے کہا ہوکہ: میں تم سے رجوع کرتاہوں) تو سابقہ نکاح برقرار ہنے کی وجہ سے 10 مارچ 2020 کو جو تحریری طور پر تین طلاقیں دی ہیں وہ بھی واقع ہوگئی ہیں ، لہٰذاہمیشہ ہمیشہ کے لئے آپ شوہر پر حرام ہوگئی ہیں ،اب اگر آپ اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کر یں اورپھر دوسرا شوہرحق زوجیت ادا کرنے کے بعدطلاق دے دے ،یا ا س کا انتقال ہو جائے،تو آپ طلاق یاوفات کی عدت گزار کر پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہیں ، اس کے بغیرسابقہ شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں ۔
اور اگر شوہر نے عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تھا تو فون پر دی گئی ایک طلاق واقع ہوگئی تھی .اور نکاح ختم ہوچکا تھا، نکاح ختم ہونے کی وجہ سے 10 مارچ 2020 کو دی گئی تین طلاقیں واقع نہیں ہوئی ہیں ،لہٰذا اب آپ دونوں باہمی رضامندی سے نئے سرے سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ۔ آئندہ کے لیے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا ۔
حوالہ جات
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 370):
(الصريح يلحق الصريح) أي إذا قال أنت طالق أنت طالق أو قال أنت طالق وطالق تطلق ثنتين وهو ظاهر.(و) الصريح يلحق (البائن) أي إذا أبانها، ثم قال أنت طالق يقع الطلاق.
البناية شرح الهداية (5/ 474):
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث، فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها؛ لأن حل المحلية باق؛ لأن زواله متعلق بالطلقة الثالثة، فينعدم قبلها.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 473):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
20/شعبان 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


