| 86910 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کونقد روپیہ کی ضرورت ہے، سود سے بچنے کے لئے وہ قسطوں پر ساٹھ 60ہزار والا موبائل نوئے90 ہزارمیں خریدتا ہے ماہانہ پانچ ہزار کی قسط پر۔ اب یہ خریدار اس موبائل کو دوسرے دکاندار پر کچھ نقصان کیساتھ نقدپر فروخت کرتا ہے،جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ قسطوں پر موبائل دینے والا موبائل کے بجائے ساٹھ ہزار کے سعودی ریال خریدتا ہے اور ضرورت مندکو اضافے کے ساتھ مثلاًنوّے ہزار میں قسطوں پر دیتا ہے ،پھر ضرورت مند ان ریالوں کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کرتا ہے ۔چونکہ موبائل کی صورت میں زیادہ اور کرنسی کی صورت میں کم نقصان آئیگا اور دونوں صورتوں میں نوّے ہزار پر پانچ ہزار ماہانہ قسط ادا کریگا ۔ دونوں مسئلوں کا حکم بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی سے ادھار پر کوئی چیزمہنگی خریدکرنقدکم قیمت پر فروخت کنندہ یا اس کے وکیل کے علاوہ کسی تیسرے آدمی کو بیچنا جائز ہے،جبکہ ادھار لین دین کی دیگرشرائط ،مثلا:ادھار کی مدت اور ادھار پر قیمت بھی پہلے سے طے ہو۔سوال میں ذکر کردہ پہلی صورت جائز ہےبشرطیکہ ضرورت مند بااختیار ہو کہ وہ مارکیٹ میں کسی کو بھی یہ موبائل بیچ سکتا ہو،نیز قرض لینے والا جس کو موبائل بیچتا ہو وہ قرض دینے والے کی طرف سے مقرر کردہ نہ ہو ،اسی طرح ادھار اور نقد کے یہ معاملات الگ الگ ہونا ضروری ہے، ایک معاملے کو دوسرے سے مشروط کرنا جائز نہیں۔
لیکن سرمایہ حاصل کرنے کا یہ طریقہ نا پسندیدہ ہے، کیونکہ یہ تجارت کے مقصد کے خلاف ہے ،تجارت میں نفع کمایا جاتا ہے جبکہ اس سودے میں ضرورت مند اس کا نقصان ہے ۔اگر اس شخص کو ذاتی ضروریات کے لیے نقد رقم کی ضرورت ہو اور وسعت ہو تو قرض دینا اولیٰ اور باعثِ ثواب ہے، اور اگر اسے کاروباری مقاصد کے لیے نقد رقم کی ضرورت ہو تو پھر حسبِ موقع شرکت، مضاربت، استصناع یا بیعِ سلم وغیرہ میں سے کوئی عقد کرنا چاہیے۔
دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ دو مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا آپس میں تبادلہ دو شرائط کے ساتھ جائز ہے:
1۔دونوں میں سے کسی ایک پر معاملہ کی مجلس میں فوری قبضہ ہو۔
2۔معاملہ مارکیٹ ریٹ پر کیا جائے،مارکیٹ ریٹ سے کمی بیشی جائز نہیں۔
مذکورہ صورت میں معاملہ چونکہ مارکیٹ سے زائد پر ہورہا ہے ،اس لئے جائز نہیں ۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (2/67-46):
التورق فی اصطلاح الفقهاء: أن یشتری المرء سلعة نسیئة، ثم یبیعها نقدًا لغیر البائع بأقل مما اشتراها به؛ لیحصل علی النقد…. و حاصل ما ذکر نا أن التورق عملیة جائزة فی نفسها، و غاية ما فی الباب -کما قال ابن الهمام ؒ - أنه خلاف الأولی إن کان البائع یعلم أن المشتری محتاج إلی نقود لأغراضه الشخصية، ولا یشتری السلعة بثمن غال إلا بسبب حاجته إلیها، فلو کان فی مکنة البائع أن یقرضه النقود التی یحتاج إلیها فلا شك أنه الأفضل والأکثر أجرا، فترک الإقراض فی هذه الحالة واللجوء إلي بيع السلعة بثمن أکثر خلاف الأفضل…و کذلك إن کان البائع یعرف أن المشتری المتورق یحتاج إلی سیولة نقدیة لأغراضه التجاریة، و مقصوده الحصول علی التمویل؛ فالأفضل للبائع أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة لکونهما طریقین مفضلین للتمویل، فالعدول عنهما إلی التورق خلاف الأولی کلما کان الطریق المفضل میسرًا، و لکن لا سبیل إلی القول بأنه یجب علیه أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة و لا یدخل فی التورق.
ولکن ما ذکرنا من جواز التورّق عند جمهور الفقهاء انما یتأتی فی التورّق الذي هو عبارة عن عمیلتین بسیطتین: إحداهما شراء السلعة بالأجل، و ثانیتهما بیعها فی السوق عاجلا. و التورق الذی تصوره الفقهاء و حکموا بجوازه هو أن السلعة موجودة عند البائع مملوکة له ملکًا حقیقیًا، ثم تنتقل ملکیتها إلی المشتری بحکم البیع الحقیقی الذی تتبعه جمیع أحکام البیع. و لکن إذا اقترنت بهذه العملیة ملابسات أخری، فلا یبعد أن یتغیر الحکم، إما إلی عدم الجواز بتاتًا، أو إلی الکراهة، أو إلی ازدیاد بعدها عن العملیات المفضلة. … فإن اشتری المتورق البضاعة نیابة عن المصرف، ثم اشتراه لنفسه بدون أن یرجع إلی المصرف و ینشئ معه البیع بعقد مستقل، فإن هذه العملیة لا تجوز أصلا؛ لأن الوکیل لا یتولی طرفی البیع، و لأنه یجب الفصل بین الضمانین فی البضاعة.
الدر المختار (5/ 179):
(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر
فقه البيوع " (2/ 739):
أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربیة الباکستانیة بالریال السعودی، فقیاس قول الإمام محمد رحمہ اللہ تعالی أن تجوز فیہ النسیئة أیضاً؛ لأن الفلوس لو بیعت بخلاف جنسھا من الأثمان، مثل الدراھم، فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعاً بشرط أن یقبض أحد البدلین فی المجلس، لئلا یؤدی إلی الافتراق عن دین بدین….. فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی، وتجوز فی الموقف الثالث، وھذا الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی "أحکام الأوراق النقدیة".
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
21/شعبان /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


