| 87546 | شفعہ کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری اور میرے چچا زاد بھائی کی مشترکہ زمین ہے ، ہماری زمین کے ساتھ متصل ایک اور زمین ہے جس کو میرے چچا زاد بھائی نے کسی اور آدمی کے ساتھ مل کر خریدا ہے۔ جب مجھے پتہ چلا تو میں نے فی الفور اس پر شفعہ کادعوی کرکےمذکورہ زمین کے پاس جاکر دو گواہ قائم کیے،کیونکہ یہ زمین میرے اور میرے چچازاد کی مشترکہ زمین کے ساتھ متصل ہے تو چچازاد مجھے چھوڑ کر کسی اور کو کس طرح ساتھ ملا کر زمین خریدتا ہے۔ حق میرا ہے کہ میر ے ساتھ مل کر مذکورہ زمین خریدے۔
لہٰذا میں اور میرا چچا زاد بھائی ایک مولوی صاحب کے پاس چلے گئے اور اپنا دعویٰ پیش کیا۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپ اپنے چچازاد بھائی کے خلاف دعوی نہیں کر سکتے، بلکہ جو آپ کے چچا زاد کا پارٹنر ہے، اس پر شفعہ کا دعوی کریں ۔وہ شخص بیرون ملک (دوبئی) میں مقیم تھا تو میں نے اس کا انتظار کیا۔ اس دوران ڈھائی ماہ گزر گئے اوروہ شخص دوبئی سے آگیا۔پھر ہم تینوں مل کر مولوی صاحب کے پاس چلے گئے تو مولوی صاحب نے مجھے کہا کہ :ڈھائی ماہ گزر گئے ہیں، آپ نے عدالت سے کیوں رجوع نہیں کیا؟ پہلی بات یہ ہےکہ جس دن مجھے پتہ چلا تو میں نے دو گواہ قائم کیے بنام -1عطاء اللہ اور-2حافظ محمد عمر،جبکہ مولوی صاحب کو میں نے بتا دیا کہ میرے پاس گواہاں بھی موجود ہیں، لیکن مولوی صاحب نے نہ گواہان کو بلایا اور نہ خود زمین پر جاگر بذات خود معائنہ کیا اور نہ ہی اپنا کوئی نمائندہ معائنہ کرنے بھیجا۔
میں نا خواندہ ہوں۔ میں دینی و شرعی اصولوں سے ناواقف ہوں۔ میں نے دو گواہ بھی قائم کیے تھے تو مولوی صاحب کے کلام کے مطابق میں نے مذکورہ شخص کا انتظار بھی کیا ،لیکن مذکورہ نیا خریدار دوبئی میں ہونے کی وجہ سے ڈھائی ماہ گزر گئےاس میں میرا کیا قصور ہے؟ لہٰذا مجھے انصاف دلایا جائے۔
مزید یہ کہ مولوی صاحب نے نہ ہمارےگواہان کو سنا اور نہ میری باتوں کو ترجیح دی، بلکہ مولوی صاحب نے ہماری ویڈیو بنائی اور ہمیں ذلیل کیا ،جب کہ فریق ثانی کی نہ ویڈیو بنائی اور نہ ہی ان سے زیادہ کلام کیا۔ لہٰذا ہم علماء کرام سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں شریعت مطہرہ کی رو سے انصاف فراہم کیا جائے ۔
نوٹ : میرا چچازاد بھائی اوراس کے شریک دونوں کو میرے دعوی کا علم تھا۔
تنقیح:سائل کا کہنا تھا کہ اس نے ابتداءً پوری زمین پر شفعہ کا دعوی کیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید سمجھ لیجئے کہ جب خریداردو ہوں تو ان میں سے کسی ایک سے بھی شفعہ طلب کیا جاسکتا ہےاور دونوں سے بھی۔ لیکن جب ایک سے شفعہ طلب کیا جائے گا،توشفیع کو صرف اسی کا حصہ شفعہ کی وجہ سے ملے گا دوسرے کا نہیں۔اس طرح اگر شفیع ابتداء سے ہی بعضِ زمین میں شفعہ کا دعوی( طلب مواثبت وغیرہ) کرے تو اس سے شفعہ کا حق باطل ہوجاتا ہے ،لیکن اگر پوری زمین پر شفعہ کا دعوی کرے توحق شفعہ باطل نہیں ہوتا۔
اس تمہید کے بعد جب آپ نے زمین کی فروختگی کا علم ہوتے ہی پوری زمین پر شفعہ کا دعویٰ کیا اور پھر زمین کے پاس جاکر دو گواہ بھی قائم کرلئے تو شفعہ کے لئے ضروری تین طلبات میں سے آپ نے دو طلبات انجام دے دئے،مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ آپ اپنے چچا زاد پر شفعہ کا دعویٰ نہیں کرسکتے ، درست نہیں ہے کیونکہ یہاں خریدار دوہیں جن میں سے ایک آپ کے چچا زاد ہے،لہٰذاکسی ایک سے بھی شفعہ طلب کرنا درست تھا۔
شفعہ کے لئے لازمی تیسری طلب "طلب خصومت(عدالت جاکر شفعہ طلب کرنا) نہیں پائی گئی،ليكن چونکہ ایک مدعی علیہ (خریدار)دوسرے ملک میں تھا ،اور یہ عذر شرعی ہے ۔لہٰذاخریدار کے آنے پر آپ کو یہ اختیار حاصل ہےکہ اپنے شہر کی عدالت جاکر شفعہ کا حق دائر کریں ۔
باقی قاضی اور حکم کے لئے لازم ہےکہ فیصلہ کرنے میں فریقین کے درمیان برابری کرے۔اسی طرح قضاء کے لئے نبی کریم ﷺکے وضع کردہ آداب میں سےہے کہ قاضی اور حکم نشست و برخاست، دیکھنے،اشارہ کرنے اور بات کرنے میں بھی فریقین میں برابری کرے،اگر ایسا نہ کیا جائے تو “قضاء” کی روح باقی نہیں رہے گی۔لہٰذا مولوی صاحب کو چاہئے کہ فیصلہ کرتے وقت ان آداب کا خیال رکھےاور آئندہ ایسے امور سے اجتناب کرے جس سے کسی ایک فریق کی جانب جھکاؤنظر آتا ہو۔
نیز بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند دارالافتاء کے کسی مستند مفتی سے فیصلہ کروائیں۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 793):
(مادة 1030) -، (يجب على الشفيع بعد طلب المواثبة أن يطلب التقرير وأن يشهد بأن يقول في حضور رجلين عند العقار المبيع أن فلانا قد اشترى هذا العقار أو عند المشتري أنت قد اشتريت العقار الفلاني أو عند البائع إن كان العقار موجودا في يده :أنت قد بعت عقارك وأنا شفيعه بهذه الجهة وكنت طلبت الشفعة والآن أطلبها أيضا اشهدا.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (2/ 804):
(مادة 1034) -، (لو أخر الشفيع طلب الخصومة بعد طلب التقرير والإشهاد شهرا من دون عذر شرعي ككونه في ديار يسقط حق شفعته) . لو أخر الشفيع طلب الخصومة بعد طلب التقرير والإشهاد شهرا من دون عذر شرعي ككونه أو كون المشتري في ديار أخرى أو كونه مريضا أو محبوسا أو لعدم وجود قاض أو وجود قاض شافعي يرى أن ليس للجار شفعة أو كان الخصم من المتغلبة وانتظر زوال تغلبه، يسقط حق شفعته عند الإمام محمد؛ لأن مدة طلب الخصومة لو تركت لإرادة الشفيع فلا يستطيع المشتري التصرف في العقار المشفوع هدما وبناء بملاحظة أن الشفيع سيأخذه منه بالشفعة وإذا أقام الشفيع بعد أن تصرف المشتري في المبيع بطلب الشفعة فيكون قد أضر بالمشتري. وعليه فقد قدرت مدة طلب الخصومة بشهر؛ لأن الشهر أجل وما دونه عاجل. وبما أن الناس يميلون إلى قصد الإضرار ببعضهم فقد اختارت المجلة هذا القول وهو القول المفتى به، (التنقيح، فتح المعين، الدرر، عبد الحليم) أما عند الإمام الأعظم فمتى استقرت الشفعة بالإشهاد فلا تسقط بتأخير طلب الخصومة، (الملتقى) ومع ذلك فلو طلب الشفيع الخصومة في ظرف شهر ومضى شهر في المحاكمة دون أن يفصل في الدعوى فلا تسقط الشفعة، (الفتاوى الجديدة) .
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 226):
ثم بعد هذين الطلبين يطلب عند قاض فيقول اشترى (فلان دار كذا وأنا شفيعها بدار كذا لي) لو قال بسبب كذا كما في الملتقى لشمل الشريك في نفس المبيع (فمره يسلم) الدار (إلى) هذا لو قبضها المشتري وطلب الخصومة لا يتوقف عليه (وهو) يسمى (طلب تمليك وخصومة وبتأخيره مطلقا) بعذر وبغيره شهرا أو أكثر (لا تبطل الشفعة) حتى يسقطها بلسانه (به يفتى) وهو ظاهر المذهب وقيل يفتى بقول محمد إن أخره شهرا بلا عذر بطلت كذا في الملتقى، يعني دفعا للضرر. قلنا: دفعه برفعه للقاضي ليأمره بالأخذ أو الترك.
قال ابن عابدین: (قوله به يفتى) كذا في الهداية والكافي درر. قال في العزمية: وقد رأيت فتوى المولى أبي السعود على هذا القول (قوله وقيل يفتى بقول محمد) قائله شيخ الإسلام وقاضي خان في فتاواه وشرحه على الجامع، ومشى عليه في الوقاية والنقاية والذخيرة والمغني.
وفي الشرنبلالية عن البرهان أنه أصح ما يفتى به. قال: يعني أنه أصح من تصحيح الهداية والكافي، وتمامه فيها، وعزاه القهستاني إلى المشاهير كالمحيط والخلاصة والمضمرات وغيرها. ثم قال: فقد أشكل ما في الهداية والكافي (قوله بلا عذر) فلو بعذر كمرض وسفر أو عدم قاض يرى الشفعة بالجوار في بلده لا تسقط اتفاقا شرح مجمع (قوله يعني دفعا للضرر) بيان لوجه الفتوى بقول محمد. قال في شرح المجمع: وفي جامع الخاني: الفتوى اليوم على قول محمد لتغير أحوال الناس في قصد الإضرار اهـ، وبه ظهر أن إفتاءهم بخلاف ظاهر الرواية لتغير الزمان فلا يرجح ظاهر الرواية عليه وإن كان مصححا أيضا كما مر في الغصب في مسألة صبغ الثوب بالسواد وله نظائر كثيرة، بل قد أفتوا بما يخالف رواية أئمتنا الثلاثة كالمسائل المفتى فيها بقول زفر وكمسألة الاستئجار على التعليم ونحوه فافهم۔
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (7/ 274):
(ولا يضيف أحد الخصمين دون خصمه) لأن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ذلك، ولأن فيه تهمة. قال (وإذا حضرا سوى بينهما في الجلوس والإقبال) لقوله عليه الصلاة والسلام «إذا ابتلي أحدكم بالقضاء فليسو بينهم في المجلس والإشارة والنظر (ولا يسار أحدهما ولا يشير إليه ولا يلقنه حجة) للتهمة ولأن فيه مكسرة لقلب الآخر فيترك حقه (ولا يضحك في وجه أحدهما) لأنه يجترئ على خصمه (ولا يمازحهم ولا واحدا منهم) لأنه يذهب بمهابة القضاء.
و فی فتح القدیر: والمستحب باتفاق أهل العلم أن يجلسهما بين يديه، ولا يجلس واحدا عن يمينه والآخر عن يساره لأن لليمين فضلا، ولذا كان صلى الله عليه وسلم يخص به أبا بكر دون عمر. وفي أبي داود «أن عبد الله بن الزبير خاصمه عمرو بن الزبير إلى سعيد بن العاص وهو على السرير قد أجلس عمرو بن الزبير على السرير، فلما جاء عبد الله بن الزبير وسع له سعيد من شقه الآخر فقال هنا، فقال عبد الله: الأرض الأرض قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، أو قال: سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجلس الخصمان بين يدي القاضي.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 246):
(إذا اشترى جماعة عقارا والبائع واحد يتعدد الأخذ بالشفعة بتعددهم فللشفيع أن يأخذ نصيب بعضهم ويترك الباقي وبعكسه) وهو ما إذا تعدد البائع واتحد المشتري (لا) يتعدد الأخذ، بل يأخذ الكل أو يترك لأن فيه تفريق الصفقة على المشتري، بخلاف الأول لقيام الشفيع مقام أحدهم فلم تنفرق الصفقة بلا فرق بين كونه قبل القبض أو بعده سمى لكل بعض ثمنا أو سمى للكل جملة، لأن العبرة لاتحاد الصفقة لا لاتحاد الثمن.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 222):
بل لو طلب أحد الشريكين النصف بناء أنه يستحقه فقط بطلت شفعته إذ شرط صحتها أن يطلب الكل كما بسطه الزيلعي فليحفظ. قوله إذ شرط صحتها أن يطلب الكل) لأنه يستحق الكل والقسمة للمزاحمة، وكذا لو كانا حاضرين فطلب كل منهما النصف بطلت، ولو طلب أحدهما الكل والآخر النصف بطل حق من طلب النصف، وللآخر أن يأخذ الكل أو يترك وليس له أن يأخذ النصف زيلعي.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
18/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


