03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معدنیات میں خمس کی ادائیگی سےپہلے اخراجات منہا کرنے کا حکم
87929زکوة کابیانمعدنیات اور دفینوں میں زکوة کے احکام

سوال

معدنیات نکالنے پر بہت زیادہ خرچہ آتا  ہےاور ساتھ  مختلف قسم کی فیسیں حکومت کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگر مجموعہ میں خمس اد اکیا جائے تو اس میں ٹھیکیدار کو فائدہ کے بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کیا یہ جائز ہے کہ مجموعی خرچوں کو خمس نکالنے سے پہلے منہا کیا جائے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید کے سمجھ لیجئے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے زمین سے نکلنے والی معدنیات کی تین اقسام بیان کی ہیں:

1.   وہ جامد چیز جو آگ پر پگھلانے سے پگھل جاتی ہو، جیسے سونا، چاندی،لوہا اور پیتل وغیرہ۔

2.   وہ جامد چیز جو آگ پر پگھلانے سے نہیں پگھلتی، جیسے چونا، سُرما اور مختلف اقسام کے پتھر وغیرہ۔

3.   مائع اورسیال چیز، جیسے پیٹرول اور تارکول وغیرہ۔

مذکورہ بالا تینوں اقسام میں سے پہلی قسم پر خمس واجب ہے، خواہ یہ چیزیں آدمی کی ذاتی زمین سے نکلیں یا غیر مملوکہ زمین سے، بہر صوت خمس واجب ہو گا،اور بقیہ دونوں قسم کی معدنیات پر کچھ واجب نہیں ہے۔

اس تفصیل کے مطابق اگر وہ معدنیات  پہلے قسم کے قبیل سے ہیں، تو خمس لازم ہے اور یہ خمس معدنیات کی کل پیداوار پر لازم ہے ،اس پر آنے والے اخراجات کو منہا نہیں کرسکتے،البتہ حکومت کو دئیے جانے والی فیسز خمس کے قائم مقام ہوسکتے ہیں ،اس لئے ان فیسز کو خمس سے منہا کیا جائے گا،لیکن اگر یہ فیسز خمس سے کم ہو تو بقیہ خمس فقراء کو دینا پڑے گا۔(تبویب:1438)

حوالہ جات

فی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 3 / ص 445):

( ولا ترفع المؤن ) أي في كل ما أخرجته الأرض لا تحتسب أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ وغير ذلك۔

فی العناية شرح الهداية (ج 3 / ص 175):

لا يرفع المؤنة من العشر مثل أجر العمال والبقر وكري الأنهار وغير ذلك ، يعني لا يقال بعدوجوب العشر في قدر الخارج الذي بمقابلة المؤنة من حيث القيمة بل يجب العشر في كل الخارج ، ومن الناس من قال : يجب النظر إلى قدر قيم المؤن من الخارج فيسلم ذلك القدر بلا عشر ثم يعشر الباقي لأن قدر المؤن بمنزلة السالم له بعوض كأنه اشتراه .

المبسوط للسرخسي (2/ 211):

اعلم أن المستخرج من المعادن أنواع ثلاثة منها جامد يذوب وينطبع كالذهب والفضة والحديد

والرصاص والنحاس، ومنها جامد لا يذوب بالذوب كالجص والنورة والكحل والزرنيخ، ومنها مائع لا يجمد كالماء والزئبق والنفط. فأما الجامد الذي يذوب بالذوب ففيه الخمس عندنا۔

العناية شرح الهداية (2/ 233):

(معدن ذهب أو فضة) المستخرج من المعادن أنواع ثلاثة: جامد يذوب وينطبع كالذهب والفضة

 والحديد والرصاص والصفر، وجامد لا يذوب كالجص والنورة والكحل والزرنيخ، ومائع لا يتجمد كالماء والقير والنفط. إما أن يكون على ضرب أهل الإسلام، أو على ضرب أهل الجاهلية، واشتبه الحال. ففي الأول وهو ما يذوب ويتطبع إذا (وجد في أرض عشر أو خراج الخمس عندنا.

الفتاوى الهندية (1/ 185):

وأما المائع كالقير والنفط والملح، وما ليس بمنطبع، ولا مائع كالنورة والجص والجواهر واليواقيت فلا شيء فيها كذا في التهذيب....وإن وجد في أرض مملوكة اتفقوا جميعا على وجوب الخمس فيه واختلفوا في أربعة أخماسه قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - هي لصاحب الخطة كذا في شرح الطحاوي.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 227):

والمفتى به التفصيل إن كان في الأموال الظاهرة فإنه يسقط الفرض عن أربابها ‌بأخذ ‌السلطان أو نائبه؛ لأن ولاية الأخذ له فبعد ذلك إن لم يضع السلطان موضعها لا يبطل أخذه عنه، وإن كان في الأموال الباطنة فإنه لا يسقط الفرض؛ لأنه ليس للسلطان ولاية أخذ زكاة الأموال الباطنة فلم يصح أخذه كذا في التجنيس والواقعات والولوالجية.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

11/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب