| 87881 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ہمارے یہاں کاٹن فیکٹری میں معاملہ اس طرح ہوتا ہیں کہ مال آتا ہے اور اسکی فائنل پیمنٹ جنوری میں ملتی ہے اور فی من 30 روپے خرچہ کٹتا ہے جس کو’’ فیکٹری خرچ‘‘ کہتے ہیں اور اگر کوئی شخص نومبر میں آتا ہے اور کہتا ہے میرے پیسے پورے دےدو تو فیکٹری والا کہتا ہے کہ 50 روپے خرچہ کٹوا کر لے لو اور سامنے والا اس پر راضی ہوتا ہے۔ اگر وہ 50 روپے خرچہ نہ دے تو اس کو مکمل پیسے اس وقت نہیں ملتے بلکہ جنوری میں ملتے ہیں، تو ایسا معاملہ کرنا شرعا کیسا ہے؟ جس وقت معاملہ ہوتا ہے تو اس وقت پارٹی کو بتا دیتے ہیں کہ فورا پیسے لوگے تو 50 روپے فی من کٹوتی ہوگی اور جنوری میں لوگے تو 30 روپے کٹوتی ہوگی۔
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ کاٹن کا ریٹ فکس ہوتا ہے مثلا 8000 روپے فی من۔ خرچہ مال آنے کے بعد اس کی ان لوڈنگ اور دیگر مزدوری وغیرہ کے زمرے میں کاٹا جاتا ہے ۔لیکن شروع میں بھی یہ آپشن دیا جاتا ہے اوربعد میں بھی کہ جنوری سے پہلے کسی بھی وقت اگر اپنی پوری رقم لو گے تو خرچہ 50 روپے فی من کے حساب سے کٹے گا۔
صورت مسئولہ میں اصل معاملہ کپاس کی نقد یا ادھار بیع کا ہوتا ہے ، اس کے ضمن میں کپاس کی ان لوڈنگ وغیرہ کا اجارہ ایک مستقل معاملہ ہے، لہذا اس مستقل اجارے کی اجرت میں کمی بیشی کو بیع کے نقد یا ادھار ہونے کے ساتھ جوڑنا شرعا درست نہیں ، اس لئے مذکورہ طریقے پر معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں ۔
اس کی جائز متبادل صورت یہ ہے کہ جو رقم مزدوری وغیرہ کے خرچ کی مد میں کاٹی جاتی ہے اس کو اسی وقت طے کر لیا جائے کہ اتنی رقم کاٹی جائے گی اور اس کو کپاس کی بیع کے نقد یا ادھار ہونے کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے تو یہ معاملہ درست ہو جائے گا۔ اس کی دوسری متبادل صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس وقت زمیندار کاٹن لے کر فیکٹری والوں کے پاس آئے اسی وقت فیکٹری والے( اپنے اخراجات وغیرہ نکال کر ) ایک قیمت خرید طے کر لیں ، پھر معاملہ یوں طے کریں کہ نقد پر یہ مال ہم آپ سے اتنے (مثلا 7750روپے فی من) میں خریدیں گے اور اگرجنوری میں پوری پیمنٹ لیں گے تو اتنے (مثلا 7770 روپے فی من)میں خریدیں گے۔تاہم شرط یہ ہے کہ خرید و فروخت کے وقت کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے اور یہ طے کرلیا جائے کہ خرید و فروخت نقد پر ہورہی ہے یا ادھارپر، اور ادھار کی مدت طے کرلی جائے(مثلا جنوری کی فلاں تاریخ)، اور قیمت فروخت جو بھی باہمی رضامندی سے طے پائے وہ
متعین کرلی جائے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 215):
(أما) فساد الشرط؛ فلأنه اعتياض عن الأجل وأنه لا يجوز؛ لأن الأجل ليس بمال فلا يجوز الاعتياض عنه.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص579):
(تفسد الاجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكلما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 121):
(باب الإجارة الفاسدة) قال رحمه الله (يفسد الإجارة الشروط) لأنها بمنزلة البيع. ألا ترى أنها تقال وتفسخ فتفسدها الشروط التي لا يقتضيها العقد كالبيع،
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 261):
(قوله ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل) لإطلاق قوله تعالى {وأحل الله البيع} وما بثمن مؤجل بيع. وفي صحيح البخاري عن عائشة رضي الله عنها «اشترى رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما من يهودي إلى أجل ورهنه درعا له من حديد»، وفي لفظ الصحيحين: «طعاما بنسيئة». (ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن جهالته تفضي إلى المنازعة في التسلم والتسليم، فهذا يطالبه في قريب المدة وذاك في بعيدها)
فقہ البیوع ( /1545(:
وإنّ زیادۃ الثمن من أجل الأجل ،وإن کان جائزا عند بدایۃ العقد، ولکن لا تجوز الزّیادۃ عند التّخلّف فی الأداء، فإنہ رباً فی معنی "أتقضی أم تربی؟"، وذالک لأنّ الأجل ،وإن کان منظورا عند تعیین الثمن فی بدایۃ العقد ،ولکن لمّا تعین الثمن ،فإنّ کلہ مقابل للمبیع، ولیس مقابلا للأجل، ولذلک لایجوز "ضع و تعجل" ۔ أمّا إذا زید فی الثّمن عند التّخلّف فی الأداء ، فھو مقابل للأجل مباشرۃً لا غیر، وھو الربا.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اصل معاملہ کپاس کی نقد یا ادھار بیع کا ہوتا ہے ، اس کے ضمن میں کپاس کی ان لوڈنگ وغیرہ کا اجارہ ایک مستقل معاملہ ہے، لہذا اس مستقل اجارے کی اجرت میں کمی بیشی کو بیع کے نقد یا ادھار ہونے کے ساتھ جوڑنا شرعا درست نہیں ، اس لئے مذکورہ طریقے پر معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں ۔
اس کی جائز متبادل صورت یہ ہے کہ جو رقم مزدوری وغیرہ کے خرچ کی مد میں کاٹی جاتی ہے اس کو اسی وقت طے کر لیا جائے کہ اتنی رقم کاٹی جائے گی اور اس کو کپاس کی بیع کے نقد یا ادھار ہونے کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے تو یہ معاملہ درست ہو جائے گا۔ اس کی دوسری متبادل صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس وقت زمیندار کاٹن لے کر فیکٹری والوں کے پاس آئے اسی وقت فیکٹری والے( اپنے اخراجات وغیرہ نکال کر ) ایک قیمت خرید طے کر لیں ، پھر معاملہ یوں طے کریں کہ نقد پر یہ مال ہم آپ سے اتنے (مثلا 7750روپے فی من) میں خریدیں گے اور اگرجنوری میں پوری پیمنٹ لیں گے تو اتنے (مثلا 7770 روپے فی من)میں خریدیں گے۔تاہم شرط یہ ہے کہ خرید و فروخت کے وقت کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے اور یہ طے کرلیا جائے کہ خرید و فروخت نقد پر ہورہی ہے یا ادھارپر، اور ادھار کی مدت طے کرلی جائے(مثلا جنوری کی فلاں تاریخ)، اور قیمت فروخت جو بھی باہمی رضامندی سے طے پائے وہ متعین کرلی جائے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 215):
(أما) فساد الشرط؛ فلأنه اعتياض عن الأجل وأنه لا يجوز؛ لأن الأجل ليس بمال فلا يجوز الاعتياض عنه.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص579):
(تفسد الاجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكلما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 121):
(باب الإجارة الفاسدة) قال رحمه الله (يفسد الإجارة الشروط) لأنها بمنزلة البيع. ألا ترى أنها تقال وتفسخ فتفسدها الشروط التي لا يقتضيها العقد كالبيع،
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 261):
(قوله ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل) لإطلاق قوله تعالى {وأحل الله البيع} وما بثمن مؤجل بيع. وفي صحيح البخاري عن عائشة رضي الله عنها «اشترى رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما من يهودي إلى أجل ورهنه درعا له من حديد»، وفي لفظ الصحيحين: «طعاما بنسيئة». (ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن جهالته تفضي إلى المنازعة في التسلم والتسليم، فهذا يطالبه في قريب المدة وذاك في بعيدها)
فقہ البیوع ( /1545(:
وإنّ زیادۃ الثمن من أجل الأجل ،وإن کان جائزا عند بدایۃ العقد، ولکن لا تجوز الزّیادۃ عند التّخلّف فی الأداء، فإنہ رباً فی معنی "أتقضی أم تربی؟"، وذالک لأنّ الأجل ،وإن کان منظورا عند تعیین الثمن فی بدایۃ العقد ،ولکن لمّا تعین الثمن ،فإنّ کلہ مقابل للمبیع، ولیس مقابلا للأجل، ولذلک لایجوز "ضع و تعجل" ۔ أمّا إذا زید فی الثّمن عند التّخلّف فی الأداء ، فھو مقابل للأجل مباشرۃً لا غیر، وھو الربا.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
02 /محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


