| 87809 | خرید و فروخت کے احکام | اموال خبیثہ کے احکام |
سوال
سود کی کمائی سے موبائل پیکج لگانا اور اس کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سود کا مال اسلام میں خبیث اور گندا مال ہے خواہ کسی بینک کا ہو یا کسی دوسرے ادارے یا شخص کا، اُس سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں، لہٰذا سود کی کمائی سے موبائل پیکج کرانا بھی جائز نہیں ، بلکہ سود کی کمائی کا صحیح مصرف یہ ہے کہ ثواب کی نیت کے بغیر غرباومساکین کو دے دیا جائے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 385):
لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ
إعلاء السنن:(372/14)
أفتی بعض أکابرنا أن للمسلم أن یاخذ الربا من أصحاب البنک أہل الحرب في دارہم، ثم یتصدق بہ علی الفقراء ولا یصرفہ إلی حوائج نفسہ
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
28 /ذی الحج/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


