| 87827 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ایک عورت نے اپنے شوہر سے خلع لینے کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ شوہر اس خلع پر راضی نہیں تھا اور نہ ہی عدالت میں پیش ہوا، لیکن عدالت نے یک طرفہ طور پر تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کر دی۔ بعد میں اس عورت نے ایک اور مرد سے نکاح کر لیا اور تقریباً دو ماہ تک اس کے ساتھ رہی۔اس کے بعد پہلا شوہر دوسرے شوہر کے پاس گیا اور اس پر دباؤ ڈال کر زبردستی تین طلاقیں لکھوائیں۔ اس عمل کی ویڈیو بھی بنائی گئی اور طلاق کے الفاظ اس کے منہ سے بھی بلوائے گئے۔ اب پہلا شوہر یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ عورت نے عدالت میں خلع کی درخواست میں جھوٹے الزامات لگائے تھے، جیسے خرچہ نہ دینا، مار پیٹ کرنا، نان و نفقہ بند کرنا وغیرہ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ سب الزامات جھوٹ پر مبنی تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ عورت ابھی بھی پہلے شوہر کے نکاح میں ہےیا اگر نکاح ختم ہو چکا ہے تو دوبارہ پہلے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے نئے نکاح کی ضرورت ہوگی؟ جب کہ عورت کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے شوہر کی طلاق کو نہیں مانتی، کیونکہ وہ طلاق زبردستی لی گئی تھی۔
تنقیح: سائل(اس عورت کے شوہر) سے فون پر بات کرنے سے معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے عدالت میں اپنا دعویٰ شرعی گواہوں سے ثابت نہیں کیا تھا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ لہذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے ، شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یکطرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابق شوہر کے نکاح میں رہتی ہے، جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسح نکاح کا اختیار جج کو صرف اس صورت میں حاصل ہوتا ہے جب معتبر سببِ فسخ نکاح موجود ہو، مثلا :
ا۔ شوہر نامرد ہو۔
2۔متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہو اور نہ طلاق دیتا ہو۔
3۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔
4۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو، لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو اور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہے۔
5۔ ایسا پاگل ہو یا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا ۔
نیز عورت مذکورہ بالا وجوہ میں سے جس وجہ کی بنیاد پر بھی فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے اسے اپنے دعوی کو شرعی شہادت (کم از کم دو نیک و صالح مردوں یا انہیں صفات کی حامل دو عورتوں اور ایک مرد کی گواہی) سے ثابت کر نا پڑے گا، شرعی شہادت کے بغیر محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر عدالت کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں۔
صورت مذکورہ میں شوہر کے قول کے مطابق عورت نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ شوہر نان نفقہ (ضروری اخراجات) نہیں دیتا اور مارپیٹ کرتا ہے، لیکن ان دعووں کوشرعی گواہوں کے ذریعے ثابت نہیں کیا گیا۔ عدالت نے صرف عورت کے بیان کی بنیاد پر نکاح فسخ کرنے کی ڈگری جاری کر دی ہے۔لہذا شرعی طور پر ایسی ڈگری معتبر نہیں ہے۔ جب تک شوہر خود طلاق یا خلع نہ دے، عورت اس کے نکاح میں ہی رہے گی۔
اس حالت میں جب عورت اب بھی پہلے شوہر کے نکاح میں تھی، تو اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا شرعاً درست نہیں تھا۔ وہ نکاح باطل اور غیر معتبر شمار ہوگا، اور دوسرے شوہر کی طرف سے دی گئی طلاق کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔عورت نے دوسرے مرد کے ساتھ شرعی نکاح کے بغیر وقت گزارا ہے جو گناہ کبیر ہ ہے جس پر دونوں کو توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔
نوٹ: یہ فتویٰ اسی وقت معتبر ہوگا جب شوہر کا بیان حقیقت پر مبنی ہو۔ اگر حقیقت اس کے خلاف ثابت ہو جائے تو یہ فتویٰ لاگو نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع : (315/4)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
«المبسوط» للسرخسي (6/ 173):
«(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.»
جمیل الرحمن
دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
/28 ذی الحجۃ/6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


