| 86965 | زکوة کابیان | جانوروں کی زکوة کابیان |
سوال
میں ایک کسان ہوں، میں مویشی منڈیوں سے مواشی لے کر ان کو تین چار ماہ اپنے پیسوں سے پال کر فربہ کرکے بیچ دیتا ہوں رمضان میں جب میری زکوۃ دینے کا وقت ہوتا ہے تو ان مواشی پر زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر جانور تجارت کی نیت سے لیے ہوں تو یہ مالِ تجارت شمار ہوں گے، اور ان پر مالِ تجارت کے احکام جاری ہوں گے، یعنی اگر خود ان جانوروں کی مالیت یا دوسرے اموال زکوٰۃ کے ساتھ مل کر مجموعہ کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور سال پورا ہوجائے تو ان کی موجودہ مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ دینا واجب ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی: لو أسامها للحم فلا زكاة فيها، كما لو أسامها للحمل والركوب، ولو للتجارة ففيها زكاة التجارة. (الدرالمختار: 275/2)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالٰی: قوله: (سائمة): نعت لثلاثون …..فلو علوفة فلا زكاة فيها، إلا إذا كانت للتجارة، فلا يعتبر فيها العدد، بل القيمة.(ردالمحتار: 280/2)
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالٰی: فإن أسيمت للحمل أو الركوب أو اللحم فلا زكاة فيها، ولو أسيمت للبيع والتجارة ففيها زكاة مال التجارة، لا زكاة السائمة. (بدائع الصنائع: 30/2)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/24شعبان المعظم ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


