| 87286 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
میرا ایک دوست ہے، وہ کسی حدیث کی تفسیر بیان کر رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ تمام نمازوں میں سب سے افضل نمازیں عصر اور فجر کی ہیں۔ مطلب یہ کہ جو بھی ہو جائے، یہ دو نمازیں ہرگز نہیں چھوٹنی چاہئیں، کیونکہ ان کی تاکید احادیث میں سب سے زیادہ آئی ہے۔ اسی طرح ان کے قضا کرنے پر بھی سخت وعید آئی ہے، اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کے بڑے فضائل بھی بیان ہوئے ہیں۔
میری طرف سے تین سوالات ہیں:
(۱)کیا واقعی ایسی احادیث موجود ہیں جن میں فجر اور عصر کی نمازوں کی فضیلت باقی نمازوں کی نسبت زیادہ بیان کی گئی ہو؟ اور کیا ان کے قضا کرنے پر زیادہ سخت وعید آئی ہے؟
(۲)اگر کوئی شخص ان احادیث کو سامنے رکھ کر صرف فجر اور عصر کی نماز ادا کرے اور باقی نمازوں کو ترک کر دے، تو کیا اس کو ان دو نمازوں کا ثواب ملے گا؟
(۳)نمازیں تو پانچوں وقت کی فرض ہیں، اور ہر نماز کی اپنی فضیلت ہے۔ تو کیا ایسی احادیث کو بیان کرنا چاہیے جن سے لوگوں کے دل میں ایسا تصور پیدا ہو جائے کہ صرف فجر اور عصر کی نماز ہی اصل فرض نمازیں ہیں؟ میرا دوست عصر کی نماز اس اہتمام سے پڑھتا ہے جیسے صرف وہی فرض ہو، حالانکہ وہ یہ مانتا بھی ہے کہ باقی نمازیں بھی فرض ہیں، لیکن ادا صرف عصر کی کرتا ہے۔
برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہر مسلمان مرد و عورت پر دن و رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ ان نمازوں کو اپنے مقررہ وقت پر ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر کسی شرعی عذر کے ان میں سے کسی نماز کو چھوڑ دے، تو وہ سخت گناہگار ہوتا ہے ۔ پانچوں نمازیں اپنی جگہ بہت اہم ہیں، مگر نماز فجر اور نماز عصر کا قرآن و حدیث میں خاص ذکر کیا گیا ہے۔ ان دونوں نمازوں کی فضیلت اور انہیں چھوڑنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔
حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفیؓ فرماتے ہیں: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے (عصر) نماز پڑھتا ہے۔" (صحیح مسلم: 634)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں: "جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں (فجر اور عصر) پابندی سے پڑھتا رہا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (صحیح مسلم: 635)
حضرت بریدہؓ نے فرمایا: "ہم ایک سفر جنگ میں تھے، بارش کا دن تھا، آپؓ نے فرمایا: عصر کی نماز جلدی پڑھ لو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کے تمام نیک اعمال ضائع ہو گئے۔" (صحیح بخاری528:)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز عشاء اور فجر، منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں۔ اگر تم ان کا اجر جان لیتے تو گھٹنوں کے بل چل کر آتے۔ (مسلم)
ان احادیث مبارکہ میں فجر اور عصر کی نمازوں کی اہمیت زیادہ بیان کی گئی ہے، کیونکہ فجر کے وقت اکثر لوگ نیند میں ہوتے ہیں، اور عصر کے وقت لوگ دن کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس لیے ان اوقات میں غفلت زیادہ ہوتی ہے اور شیطان انسان کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، لہذا ان نمازوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے بنسبت دوسری نمازوں کے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کے دوسری نمازوں میں کوتاہی جائز ہوگی ۔
البتہ اگر کوئی شخص صرف ان دو نمازوں پر عمل کرے اور باقی نمازیں چھوڑ دے، تو ان دو نمازوں کا ثواب اس کو ضرور ملے گا، لیکن باقی نمازیں چھوڑنے کا گناہ بھی ہوگا۔ کیونکہ شریعت نے پانچوں نمازوں کو فرض قرار دیا ہے، صرف دو نمازوں پر اکتفا کرنا درست نہیں۔
اگر کوئی فضائل کی حدیث ایسی ہو جس سے بعض لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہوں، تو علما کرام کو چاہیے کہ وہ ایسی احادیث بیان کرتے وقت مکمل وضاحت اور رہنمائی بھی کریں۔ صرف اس خدشے کی بنیاد پر کہ لوگ غلط سمجھ لیں گے، کسی صحیح حدیث کو بیان کرنے سے رکا نہیں جائے گا۔
حوالہ جات
النساء :(103)﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾
حجۃ اللہ البالغۃ (:(14/2قال الله تعالى: ﴿حَافِظُوا على الصلوات والصلاة الوسطى ) والمراد بها العصر ("). . وقوله صلى الله عليه وسلم: "من صلى البردين دخل الجنة " قوله صلى الله عليه وسلم:" من ترك صلاة العصر فقد حبط عمله وقوله صلى الله عليه وسلم: " الذي تفوته صلاة العصر فكأنما وتر أهله وماله وقوله صلى الله عليه وسلم : " ليس صلاة أثقل على المنافقين من الفجر والعشاء، ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا .
أقول: إنما خص هذه الصلوات الثلاث بزيادة الاهتمام ترغيبا وترهيبا، لأنها مظنة التهاون والتكامل لأن الفجر والعشاء وقت النوم، لا ينتهض إليه من بين فراشه ووطانه، عند لذيذ نومه ووسنه إلا مؤمن تقي وأما وقت العصر: فكان وقت قيام أسواقهم، واشتغالهم بالبيوع، وأهل الزراعة أتعب حالهم هذه.
جمیل الرحمن
دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
25/شوال 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


