| 87564 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
افیون کی کاشت سے تین چیزیں منتفع بہ حاصل ہوتی ہیں 1۔افیون 2۔خشخاش 3.ڈوڈے اور عرف عام میں اس کی کاشت صرف افیون کے حصول کے لئے کی جاتی ہے جو مقصود اصلی ہے۔ تو کیا ان سب چیزوں پر عشر لازم ہے یا صرف افیون پر لازم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح ہو کہ عشر زمین سے نکلنے والی ہر اُس پیدا وار پر واجب ہے جس کےحصول کےلئےکاشت کی جائے، خواہ وہ پیداوار ذاتی استعمال کےلئے ہو،فروخت کرنے کےلئے ہو،علاج کےلئے ہو،جانوروں کے استعمال کےلئے ہویا کسی بھی مقصد کےلئے ہواور جو پیداوار مقصود نہ ہو، بلکہ وہ اصل پیداوار کے ساتھ ضمنی طور پر حاصل ہوجائے یا مقصودی پیداوار کے ساتھ خود بخود اُگ آئے، اصولی طور پر ان میں عشرواجب نہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ کاشت سے مقصود افیون ہے، اس لئے اس پر عُشر واجب ہوگا ۔اسی طرح اگر خشخاش کو فروخت کر کے نفع حاصل کرنا مقصود ہو تو اس پر بھی عشر لازم ہوگا۔ البتہ ڈوڈے چونکہ ضمنی طور پر حاصل ہوتے ہیں اور بنیادی پیداوار سے مقصود نہیں ہوتے اس لئے اس پر عشر واجب نہیں ۔
جہاں تک افیون کی کاشت کا تعلق ہے تو اس کا جائز استعمال بہت محدود ہے، جبکہ اس کا غالب استعمال ناجائز اور مضر ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص حکومت سے باقاعدہ لائسنس حاصل کر کے اس کی نگرانی میں افیون کی کاشت اور تجارت کرے، تو ایسی صورت میں کاشت اور تجارت دونوں جائز ہوں گی، کیونکہ حکومت یہ اجازت صرف جائز مقاصد اور جائز استعمال کے لیے دیتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص حکومت سے اجازت لیےبغیر غیر قانونی طور پر اس کی کاشت یاتجارت کرے، تو یہ عمل قانون کی خلاف ورزی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اور ایسا کرنا شرعاً گناہ ہے، نیز اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے۔
تاہم اگر کسی نے افیون کی کاشت کی تو حاصل ہونےوالی پیداوار سے عشر نکالنا شرعاًواجب ہے،کیوں کہ فصل فی نفسہ حرام نہیں ہے،بلکہ حرام اس کا ناجائز استعمال ہے جو بعد میں ہوتا ہے ،عشر کا تعلق استعمال سے نہیں بلکہ پیداوار سے ہوتا ہے، اس لیے عشر ادا کرنا لازم ہے۔البتہ افیون کی جنس میں عشر ادا نہ کیا جائے، بلکہ اس کی قیمت کے حساب سے عشر ادا کیا جائے۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (2/ 327):
«(قوله: إلا فيما لا يقصد إلخ) أشار إلى أن ما اقتصر عليه المصنف كالكنز وغيره ليس المراد به ذاته بل لكونه من جنس ما لا يقصد به استغلال الأرض غالبا وأن المدار على القصد حتى لو قصد به ذلك وجب العشر كما صرح به بعده.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 186):
«ولا عشر فيما هو تابع للأرض كالنخل والأشجار وكل ما يخرج من الشجر كالصمغ والقطران؛ لأنه لا يقصد به الاستغلال كذا في البحر الرائق. ولا يجب في البذور التي لا تصلح إلا للزراعة والتداوي كبذر البطيخ والنانخواه والشونيز كذا في المضمرات، ولا يجب في القنب والصنوبر وشجر القطن والباذنجان والكندر والموز والتين هكذا في خزانة المفتين،»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
19/ذی قعدہ 1446
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


