03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرمتِ مصاہرت کے بعد عدت کا حکم
88283نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے بعد جب علیحدگی ہو جائے، تو کیا بیوی کے لیے عدّت گزارنا ضروری ہوگی؟ جب کہ اُسے میکے آئے ہوئے تین سال ہو چکے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عدّت کا تعلق نکاح کے ختم ہونے سے ہوتا ہے، نہ کہ شوہر کے قریب ہونے یا ہمبستری کے واقع ہونےسے۔جس وقت نکاح ختم ہو جاتا ہے، اس وقت سے عدّت واجب ہو جاتی ہے ، اگرچہ کئی سال سے ازدواجی تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں،لہٰذا حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے بعد متارکت  سے جب نکاح ختم ہو جائے، تو اس کے بعد عورت پر عدّت گزارنا شرعاً لازم ہوتا ہے، اگرچہ کئی سال سے ازدواجی تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر حرمتِ مصاہرت کے بعد شوہر زبان سے الفاظِ متارکت (مثلاً: "میں نے آپ کو چھوڑ دیا"، "میں نے آپ کا راستہ چھوڑ دیا"، "میں نے آپ کو طلاق دی" وغیرہ) کہہ کر بیوی سے علیحدگی اختیار کرے، یا عدالت کے ذریعے نکاح ختم ہو جائے، تو اس کے بعد عورت پر شرعی عدت گزارنا لازم ہوگا۔

عدت کی صورت یہ ہوگی کہ اگر عورت کو ماہواری آتی ہے، تو تین حیض (ماہواریاں) مکمل کرے گی،اگر عورت کو ماہواری نہیں آتی (کسی عذر کی بنا پر)، تو اس کی عدت تین قمری ماہ ہوگی اور اگر عورت حمل سے ہے، تو اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہوگی۔عدت مکمل ہونے کے بعد عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی شرعاً اجازت ہوگی۔

حوالہ جات

«الدر المختار»  (3/ 37) :

«وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح، حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة. »  

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 133):

«(وتجب العدة بعد الوطء) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الأصح.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 526):

«لو كان النكاح فاسدا ففرق القاضي إن فرق قبل الدخول لا تجب العدة وكذا لو فرق بعد الخلوة، وإن فرق بعد الدخول كان عليها الاعتداد من وقت التفريق، وكذا لو كانت الفرقة بغير قضاء كذا في الظهيرية....(الباب الثالث عشر في العدة) ‌هي ‌انتظار ‌مدة ‌معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا في شرح النقاية للبرجندي. رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان. »

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 5/ صفر /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب