03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لے پالک اور منہ بولی اولاد کے میراث کاحکم
88243میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا گود لی ہوئی بچی میراث میں حصہ دار رہے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولی اولادکی حیثیت حقیقی اولاد  کی طرح نہیں ہے اور کسی کو گود لینےیامنہ بولی اولاد بنانے سے وہ حقیقی اولاد نہیں بن جاتی اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں ، منہ بولے بیٹے اپنے حقیقی رشتے دار(والد، والدہ، بھائی،بہن وغیرہ) کے تو وارث بنتے ہیں، لیکن جس شخص نے ان کو گود لیا ہے ان کے ترکہ میں ان کا اولاد ہونے کی حیثیت سے حق وحصہ نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

«القرآن الکریم » (الأحزاب آیة: 4):

«وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ. »

«التفسير المظهري» (7/ 284):

«فلا ‌يثبت ‌بالتبني شىء من احكام النبوة(الْبُنُوَّةِ) من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

30/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب