| 88243 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا گود لی ہوئی بچی میراث میں حصہ دار رہے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولی اولادکی حیثیت حقیقی اولاد کی طرح نہیں ہے اور کسی کو گود لینےیامنہ بولی اولاد بنانے سے وہ حقیقی اولاد نہیں بن جاتی اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں ، منہ بولے بیٹے اپنے حقیقی رشتے دار(والد، والدہ، بھائی،بہن وغیرہ) کے تو وارث بنتے ہیں، لیکن جس شخص نے ان کو گود لیا ہے ان کے ترکہ میں ان کا اولاد ہونے کی حیثیت سے حق وحصہ نہیں ہوتا۔
حوالہ جات
«القرآن الکریم » (الأحزاب آیة: 4):
«وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ. »
«التفسير المظهري» (7/ 284):
«فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة(الْبُنُوَّةِ) من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
30/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


