03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ نقدی فراہم کرنے پر اضافی رقم لینے کا شرعی حکم
88158سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے مختلف دکانوں سے خریداری کرتا ہوں۔ بعض اوقات کسی دکان پر مطلوبہ سامان دستیاب نہیں ہوہوتی  اور کسی دوسری دکان پر دستیاب ہوتا ہےلیکن وہاں کریڈٹ کارڈ کی سہولت موجود نہیں ہوتی، تو ایسی صورت میں میں پہلے دکاندار سے نقدرقم لیتا ہوں تاکہ وہ سامان دوسری جگہ سےخرید سکوں،تو اس پر دکاندارمجھ سے کل 4 %اضافی چارج کرتا ہے، %2"بینک چارجز" کی مد میں اور%2اپنی فیس کے طور پر، کیونکہ وہ مجھے نقد رقم سہولت فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ (مثلاً: اگر میں 10,000 روپے نقد لیتا ہوں تو دکاندار 10,400 روپے میرے کریڈٹ کارڈ سے چارج کرتا ہے)۔ اوراگر میں یہ نقد رقم کسی مخصوص سامان کی خریداری کے لیے نہیں،بلکہ عمومی نقد ضرورت کے طور پر لینا چاہوں، تو ایسی صورت میں دکاندار %7اضافی رقم چارج کرتا ہے، جس میں%2 " بینک چارجز" کی مد میں  اور %5اپنی فیس کے طور پر، کیونکہ وہ مجھے نقد رقم سہولت فراہم کر رہا ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا دکاندار کا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے نقد رقم فراہم کرنے کی سہولت پر اضافی رقم (مثلاً: نقد رقم کا%2یا   5% )لینا شرعاً جائز ہے؟ کیا یہ رقم سود کے زمرے میں شمار ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے نقد رقم حاصل کرنا درحقیقت قرض کا معاملہ ہوتا ہے۔ جن سے رقم وصول کی جا رہی ہے، وہ قرض دینے والا ہے اور جو رقم حاصل کر رہا ہے، وہ قرض لینے والا شمار ہوتا ہے۔ اس معاملے میں بینک، کارڈ ہولڈر کی طرف سے دکاندار کو قرض ادا کرتا ہےاور بعد میں کارڈ ہولڈر بینک کو سہولت کے ساتھ اس رقم کی ادائیگی کرتا ہے۔

لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں دکاندار کا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے نقد رقم فراہم کرنے کی سہولت پر اضافی رقم (مثلاً: نقد رقم کا 2% یا 5%) وصول کرنا شرعاً "قرض پر مشروط اضافہ" ہونے کی وجہ سے سود کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

البتہ، اگر اس رقم کی فراہمی کے دوران دکاندار کو واقعی کچھ حقیقی اضافی اخراجات (مثلاً بینک فیس یا دیگر واضح اخراجات) برداشت کرنا پڑے، تو صرف انہی حقیقی اخراجات کی وصولی شرعاً جائز ہوگی، اس سے زائد لینا سود میں شمار ہوگا۔

حوالہ جات

«فقہ البیوع» (1/446):

وإن هذا التكييف وإن كان له وجة، ولكن الذي يظهر لي – والله سبحانه وتعالى أعلم - أن العملية في بطاقة الحسم الآ جل عملية حوالة؛ فإن كان لحامل البطاقة حساب في البنك المصدر بقدر فاتورة التاجر، فإنه حوالة مقيدة تجوز عند جميع الفقهاء، وإن لم يكن له حساب في البنك المصدر فإنه حوالة مطلقة، والحوالة المطلقة، وإن كان فيها خلاف الأئمة الآخرين، فإنها جائزة عند الحنفية. وحامل البطاقة وجب عليه دين للتاجر، وإنه أحال التاجر على البنك المصدر للبطاقة، فصار هو محيلاً والتاجر محالاً، ومصدر البطاقة محالاً عليه، وتمت الحوالة على قول الحنفية برضا الأطراف الثلاثة، لأن إصدار البطاقة لصالح الحامل موافقة من المصدر على قبول الحوالة .والحوالة كما هو معروف فقهاً:"نقل ذمة إلى ذمة أخرى". فانتقلت ذمة الحامل إلى ذمة المصدر، وصار مصدر البطاقة مديوناً للتاجر بدين حال.

«مجلة مجمع الفقه الإسلامي» (12/ 1510 بترقيم الشاملة آليا):

«ثالثا: السحب النقدي من قبل حامل البطاقة اقتراض من مصدرها، ولا حرج فيه شرعا إذا لم يترتب عليه زيادة ربوية، ولا يعد من قبيلها الرسوم المقطوعة التي لا ترتبط بمبلغ القرض أو مدته مقابل هذه الخدمة. وكل زيادة علي الخدمات الفعلية محرمة، لأنها من الربا المحرم شرعا، كما نص علي ذلك المجمع في قراره رقم 13 (10 /2) و13 (1 /3) .»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

25/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب