| 88171 | جنازے کےمسائل | مردے کو غسل دینے اوردفنانے کا بیان |
سوال
سائل سے معلومات کے بعد مسئلہ کی وضاحت:
ایک میت کو اس کی اولاد نے تقریباً دو سے ڈھائی سال قبل دوسرے خاندان کے وقف شدہ قبرستان میں، ان کی رضامندی سے دفن کیا تھا۔اب اس خاندان کے لوگ قبرستان کی زمین کے اردگرد کچھ فصلیں وغیرہ بھی اگاتے ہیں۔ میت کے ورثاء اور اس خاندان کے درمیان باہمی رنجش پیدا ہو چکی ہے، تاہم اس خاندان کی جانب سے میت کو وہاں سے نکالنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔میت کے اہلِ خانہ کو یہ بات کھٹک رہی ہے کہ چونکہ ہمارا اس خاندان سے اختلاف ہے، لہٰذا ہماری خواہش ہے کہ میت کو وہاں سے نکال کر اپنے خاندانی قبرستان میں منتقل کیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں شریعت کے مطابق میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائزہے؟اگر اجازت ہو، تو کیا میت پر دوبارہ نمازِ جنازہ ادا کرنا لازم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جب میت کو ایک مرتبہ قبر میں دفن کیا جائے تو شدید شرعی ضرورت کے بغیر دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں ۔شدیدضرورت(مثلاً:کسی کی مغصوبہ زمین میں میّت کو دفن کیا گیا ہویا مالکِ زمین کی اجازت کے بغیر اس میّت کو دفن کیا گیا ہو اور مالک زمین میت کو نکالنے کا مطالبہ کررہا ہو) پیش آجائے تو جائز ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ وجہ سے میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (2/ 210):
(قوله ولا يخرج من القبر إلا أن تكون الأرض مغصوبة) أي بعد ما أهيل التراب عليه لا يجوز إخراجه لغير ضرورة للنهي الوارد عن نبشه وصرحوا بحرمته وأشار بكون الأرض مغصوبة إلى أنه يجوز نبشه لحق الآدمي كما إذا سقط فيها متاعه أو كفن بثوب مغصوب أو دفن في ملك الغير أو دفن معه مال أحياء لحق المحتاج قد «أباح النبي صلى الله عليه وسلم نبش قبر أبي رعال لعصا من ذهب معه كذا في المجتبى قالوا، ولو كان المال درهما ودخل فيه ما إذا أخذها الشفيع فإنه ينبش أيضا لحقه كما في فتح القديروذكر في التبيين أن صاحب الأرض مخير إن شاء أخرجه منها وإن شاء ساواه مع الأرض وانتفع بها زراعة أو غيرها وأفاد كلام المصنف أنه لو وضع لغير القبلة أو على شقه الأيسر أو جعل رأسه في موضع رجليه أو دفن بلا غسل وأهيل عليه التراب فإنه لا ينبش قال في البدائع؛ لأن النبش حرام حقا لله تعالى، وفي فتح القدير واتفقت كلمة المشايخ في امرأة دفن ابنها، وهي غائبة في غير بلدها فلم تصبر وأرادت نقله أنه لا يسعها ذلك فتجويز شواذ بعض المتأخرين لا يلتفت إليه اهـ.»
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص123):
«(ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي، ك (- أن تكون الارض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالارض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار ترابا.زيلعي .»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 167):
«ولا ينبغي إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان.
إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوى الأرض وزرع فيها، كذا في التجنيس.»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
25/ محرم الحرام 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


