| 88118 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
آج کل فیس بک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف قسم کی ایپس متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ انہی میں سے ایک "ASM App" اور اسی طرز کی ایک اور ایپ "IKV" بھی ہے۔
ان ایپس میں صارفین کو اس طرح ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ کچھ رقم (مثلاً 4,000 یا 50,000روپے) جمع کروائیں، جس کے بعد کمپنی روزانہ 10 ویڈیوز بھیجے گی۔ ان ویڈیوز کو دیکھنے کے بدلے صارف کو روزانہ ایک مخصوص منافع دیا جائے گا۔ منافع کی یہ مقدار جمع شدہ رقم کے تناسب سے مقرر کی جاتی ہے، یعنی جتنی زیادہ رقم جمع کروائی جائے، روزانہ منافع بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے(مثلاً :اگر کوئی شخص 4,000 روپے جمع کرواتا ہے تو اُسے روزانہ 130 روپے ملیں گے اور اگر وہ50,000(پچاس ہزار ) روپے جمع کروائے تو روزانہ 2600(دوہزار چھ سو) روپے دیے جائیں گے۔ یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہتا ہے، اختتام پر جمع شدہ اصل رقم صارف کو واپس نہیں کی جاتی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکور کام میں مندرجہ ذیل مفاسد پائے جاتے ہیں:
(1) ویڈیوز، تصاویر وغیرہ دیکھنے کا کام اجارہ (ملازمت) کا فعل ہے جس میں دیکھنےوالے کو ویڈیو یا تصویر دیکھنے کی اجرت دی جاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کی اجرت لی جا سکے۔ اس کے برعکس یہ کام جعل سازی کے لیے اکثر استعمال ہوتا ہے، مثلاً فیس بک اور یوٹیوب چینل پر غلط طریقے سے ویورز لا کر یو ٹیوب،گوگل ایڈسینس اور اشتہار دینے والی کمپنیوں کو بھی دھوکہ دیا جاتا ہے۔ لہذا شرعاً یہ کام کرنا اور اس کی اجرت لینا درست نہیں ہے۔
(2) یہ ویڈیوز، تصاویر وغیرہ دیکھنے کے کام کے لیے انویسٹمنٹ کی جاتی ہے جو حقیقتاً اجارے (ملازمت) کے حق کو خریدنا ہے۔ یہ حق مجرد کی بیع ہے یعنی بلا کسی عوض ادائیگی کی ایک صورت ہے اور اکل بالباطل اور رشوت کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ جائز نہیں ہے اور اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں ان ویڈیوز اور تصاویر کے لیے انویسٹمنٹ کرنا اور انہیں دیکھنا درست نہیں ہے اوراس کی اجرت بھی شرعاً درست نہیں ہے۔(ماخوذ ازتبویب: 85672).
حوالہ جات
«مجلة مجمع الفقه الإسلامي، مقالة الشيخ محمد تقي العثماني» ( 5/1931):
ومقتضى هذين التعريفين أن المال مقصور على الأعيان المادية، فلا يشمل المنافع والحقوق المجردة، ولذلك صرح الفقهاء الحنفية بعدم جواز بيع المنافع والحقوق المجردة، وقد صرحوا بأن بيع حق التعلي لا يجوز.
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص569):
«(هي) لغة: اسم للاجرة، وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال: أعظم الله أجرك، وشرعا: (تمليك نفع).مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثياباأو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالاجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لانها منفعة غير مقصودة من العين.بزازية.
علق عليه ابن عابدين ؒ: "(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل." .»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


