| 87959 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ہم نو بہن بھائی ہیں،یعنی آٹھ بھائی اور ایک بہن ہے، ہماری والدہ محترمہ بھی الحمدللہ حیات ہیں۔ ان آٹھ بھائیوں میں سے ایک بھائی جو غیر شادی شدہ تھا، والد صاحب کی وفات کے بعد وفات پا گیا۔ والد صاحب کے نام پر پنجاب میں دس مرلے زمین موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ شرعی لحاظ سے اس زمین کی تقسیم کیسے کی جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ بالاامورسرانجام دینےکےبعدوالدکی میراث اس طرح تقسیم کی جائے کہ والد کی کل میراث کے 136حصےبنائے جائیں ۔136حصوں میں سے مرحوم کی بیوہ کو 17 اور بیٹی کو 7 حصے ملیں گے، جبکہ بیٹوں کو 136حصوں میں سے 112حصے ملیں گےاور پھر112حصوں میں سے ہرایک بیٹے کو14حصے ملیں گے۔
فیصدی اعتبار سے کُل میراث کا12.5%مرحوم کی بیوہ کا ہوگااور 5.1470%بیٹی کا ہوگا ۔جبکہ ہر ایک بیٹے کو فیصدکےاعتبارسےکل میراث کا 10.2941%ملےہوگا۔
نقشے کی صورت میں والد کی میراث کی تقسیم درج ذیل طریقے سے ہو گی:
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
بیوہ |
17 |
12.5% |
|
بیٹی |
7 |
5.1470% |
|
بیٹا1 |
14 |
10.2941% |
|
بیٹا 2 |
14 |
10.2941% |
|
بیٹا3 |
14 |
10.2941% |
|
بیٹا4 |
14 |
10.2941% |
|
بیٹا5 |
14 |
10.2941% |
|
بیٹا6 |
14 |
10.2941% |
|
بیٹا7 |
14 |
10.2941% |
|
بیٹا8 |
14 |
10.2941% |
|
مجموعہ |
136 |
100% |
والدکی میراث کی تقسیم کے بعدمرحوم بھائی کی میراث تقسیم کی جائےگی،جس میں ان کواپنےوالدسےملنےوالاحصہ یعنی ٹوٹل 10.2914% ان کےورثہ میں تقسیم ہوگا۔ مرحوم بھائی کی کل میراث کے18حصے بنیں گے۔جس میں مرحوم کی والدہ کو سدس(چھٹا حصہ)یعنی 3حصے ملیں گے اور بہن کو 1حصہ ملے گا۔جبکہ ہر ایک بھائی کو 2حصے ملیں گے۔
فیصدی اعتبار سےبھائی کیکُل( 10.2914%) میراث کا1.7152%مرحوم کی والدہ کا ہوگااور 0.5717 % بیٹی کا ہوگا ۔جبکہ ہر ایک بھائی کو فیصدکےاعتبارسےکل میراث کا 1.1434%ملےہوگا۔
نقشے کی صورت میں مرحوم بھائی کی میراث درج ذیل طریقہ سے تقسیم ہو گی:
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
والدہ |
3 |
1.7152% |
|
بہن |
1 |
0.5717% |
|
بھائی1 |
2 |
1.1434% |
|
بھائی2 |
2 |
1.1434% |
|
بھائی3 |
2 |
1.1434% |
|
بھائی4 |
2 |
1.1434% |
|
بھائی5 |
2 |
1.1434% |
|
بھائی6 |
2 |
1.1434% |
|
بھائی7 |
2 |
1.1434% |
|
مجموعہ |
18 |
10.2914% |
کل میراث کے 1224حصے بنیں گے،مرحوم والد کی بیوہ کو 174حصے ملیں گے اوربیٹی کو70حصے ملیں گے۔جبکہ بیٹوں کو980 حصے ملیں گے گےاور پھر980حصوں میں سے ہرایک بیٹے کو140حصے ملیں گے۔
فیصدی اعتبار سے کُل میراث کا14.2156%مرحوم والد کی بیوہ کا ہوگااور 5.7189%بیٹی کاہوگا۔جبکہ ہر ایک بیٹے کو فیصد کے اعتبار سے کل میراث کا 11.4379%ملےہوگا۔
نقشے کی صورت میں ترکہ سے زندہ ورثاء کےحصے درج ذیل ہو ں گے:
الاحیاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
بیوہ |
174 |
14.2156% |
|
بیٹی |
70 |
5.7189% |
|
بیٹا1 |
140 |
11.4379% |
|
بیٹا 2 |
140 |
11.4379% |
|
بیٹا3 |
140 |
11.4379% |
|
بیٹا4 |
140 |
11.4379% |
|
بیٹا5 |
140 |
11.4379% |
|
بیٹا6 |
140 |
11.4379% |
|
بیٹا7 |
140 |
11.4379% |
|
مجموعہ |
1224 |
100% |
حوالہ جات
[النساء: 11]
«يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثا مَا تَرَكَ وَإِنْ كانَتْ واحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ واحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
6/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


