03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انٹرنیٹ پر صرف مسئلہ سمجھنے کی نیت سے “تم مجھ پر حرام ہو” لکھنے سےطلاق کا حکم
87924طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

  میں نے ایک مرتبہ "استغفراللہ" کہا اور آخر میں جو "ہ" کی آواز تھی، اسے تھوڑا کھینچا۔ اسی دوران میرے ذہن میں ایک جملہ آیا: "تم مجھ پر حرام ہو"۔ سانس لیتے یا نکالتے وقت یہ الفاظ محسوس ہوئے ،لیکن زبان سے کچھ نہیں کہا، پھر   میں  نے انٹرنیٹ پر مسئلہ معلوم کرنے کی غرض سے "تم مجھ پر حرام ہو" لکھا۔ اُس وقت نہ میں بیوی سے مخاطب تھا، نہ یہ جملہ ان کے لیے کہا، بلکہ صرف مسئلہ سمجھنے کی نیت تھی۔ تو کیا محض لکھنے سے کوئی طلاق واقع ہوئی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق واقع ہونےکے لیے یہ ضروری ہے کہ شوہرطلاق کی نسبت بیوی کی طرف کرے، مثلاً میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، یا اپنی بیوی کا نام لے کر کہے کہ طلاق دی اور بیوی کی موجودگی میں بھی طلاق کی نسبت بیوی کی طرف کرنا ضروری ہے خواہ اشارۃً نسبت کرے۔اوراگر بیوی کی طرف نسبت نہیں کی ہے، نہ صراحۃً اور نہ اشارۃً تو شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں انٹرنیٹ پر طلاق کی  نیت اوربیوی کی طرف  نسبت کئے بغیر،صرف مسئلہ سمجھنے کی نیت سے "تم مجھ پر حرام ہو"لکھنے سے بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 250):

«مطلب في قول البحر: إن الصريح يحتاج في وقوعه ديانة إلى النية (قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر، احترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته، وعما لو لقنته لفظ الطلاق فتلفظ به غير عالم بمعناه فلا يقع أصلا على ما أفتى به مشايخ أوزجند صيانة عن التلبيس وغيرهم من الوقوع قضاء فقط.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

6/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب