| 87825 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
فیصل بینک "نور کریڈٹ کارڈ" کے نام سے ایک کریڈٹ کارڈ جاری کرتا ہے، جس میں بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں صارف پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ یہ جرمانہ خود بینک استعمال نہیں کرتا، بلکہ اسے خیراتی کاموں میں صرف کیا جاتا ہے، اور اس مقصد کے لیے بینک نے باقاعدہ "چیریٹی کمیٹی" قائم کی ہے۔
بینک کا مؤقف ہے کہ یہ جرمانہ اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ نور کارڈ کا نظام مؤثر انداز میں چل سکے اور صارفین بروقت ادائیگی کریں۔سوال یہ ہے کہ کیا ایسے کریڈٹ کارڈ کا بنوانا اور استعمال کرنا شرعاً جائز ہے، خصوصاً جب کسی صارف کو اس کی واقعی ضرورت بھی ہو؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فیصل بینک کے" نورکارڈ (Noor Card)"کے حوالے سے دارالافتاء جامعۃ الرشید کے کچھ تحفظات تھے،جنہیں فیصل بینک کے شریعہ بورڈ کی خدمت میں پیش کردیا گیا ہے،وہ اس حوالے سےسنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور بنیادی اسٹرکچر میں تبدیلی کی کوشش کر رہے ہیں،اسٹرکچر میں تبدیلی کے بعددارالافتاء جامعۃ الرشید دوبارہ غور کرکے رائے قائم کرے گا۔
حوالہ جات
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29/ ذو الحجہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


