03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن آڈر لے کر کاریگر سے بنواکر فروخت کرنا
87703خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 میں "Etsy" پر آن لائن لیدر جیکٹس فروخت کرتا ہوں، جو میں خود ڈیزائن کرتا ہوں اور انہیں Etsy پر لسٹ کر دیتا ہوں۔ جب کوئی آرڈر موصول ہوتا ہے، تو میں اپنے کاریگر (مینوفیکچرر) کو اس مخصوص سائز اور رنگ کے مطابق جیکٹ تیار کرنے کا کہتا ہوں۔ جس کاریگر سے میں پروڈکٹ بنواتا ہوں، اُس سے میرا معاہدہ ہے کہ جب آرڈر آئے گا تو میں اُسے سائز اور کلر بتاؤں گا اور وہ اُس کے مطابق جیکٹ تیار کرے گا۔

جب وہ جیکٹ تیار کر لیتا ہے، تو میں اُسے اس کی قیمت ادا کرتا ہوں اور  پروڈکٹ کو خود وصول(اپنے قبضے میں) کر کے اس کی اچھی طرح پیکنگ کرتا ہوں پھر  اس کے بعدکو ریئر کمپنی  کے ذریعے خریدار کو ارسال کر دیتا ہوں۔

میں نے پروڈکٹ کے عنوان (Title) اور تفصیل (Description) میں واضح طور پر یہ درج کر رکھا ہے کہ یہ پروڈکٹ "آرڈر پر تیار کی جاتی ہےاور ڈیلیوری کا دورانیہ بھی  ذکر کیا گیا ہے۔

"Etsy" کی پالیسی کے مطابق صارف کو "Buy Now" کا بٹن نظر آتا ہے، حالانکہ یہ آرڈر پر تیار ہونے والی چیز ہوتی ہے۔ میں نے وضاحت کے ساتھ یہ سب کچھ لکھ دیا ہوتا ہے تاکہ خریدار کو معلوم ہو جائے کہ یہ ریڈی میڈ (Ready-Made) نہیں، بلکہ مخصوص آرڈر پر تیار کی جانے والی پروڈکٹ ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا یہ کاروباری طریقہ کار شرعاً درست (حلال) ہے؟ اگر اس میں کوئی شرعی قباحت ہو تو براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کون سی تبدیلیاں کر کے اسے شرعاً جائز بنایا جا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکور کاروباری ترتیب "متوازی استصناع" (Parallel Istisna) کی ایک جائز صورت ہے۔ یعنی جب خریدار سے آرڈر موصول ہوتا ہے، تو آپ کسی کاریگر (مینوفیکچرر) کو وہی چیز اس کی مطلوبہ تفصیلات (مثلاً: سائز، رنگ، ڈیزائن) کے ساتھ تیار کرنے کا آرڈر دیتے ہیں اور تیار ہونے کے بعد اُسے خود وصول کر کے خریدار کو سپلائی کرتے ہیں۔

چونکہ آپ خریدار کو مال خود حاصل کرنے کے بعد، اپنی ملکیت اور قبضے میں لے کر فراہم کرتے ہیں اور آرڈر پر تیار ہونے کی وضاحت پہلے سے موجود ہے، اس لیے یہ طریقہ شرعاً جائز اور حلال ہے۔

حوالہ جات

«المبسوط» للسرخسي (12/ 139):

«‌والأصح ‌أن ‌المعقود عليه المستصنع فيه وذكر الصنعة لبيان الوصف فإن المعقود هو المستصنع فيه ألا ترى أنه لو جاء به مفروغا عنه لا من صنعته أو من صنعته قبل العقد فأخذه كان جائزا»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 225):

«(والمبيع هو العين لا عمله) خلافا للبردعي (‌فإن ‌جاء) ‌الصانع ‌بمصنوع ‌غيره ‌أو ‌بمصنوعه ‌قبل ‌العقد ‌فأخذه (‌صح) ولو كان المبيع عمله لما صح»

المعاییر الشرعیہ ص  306:

الاستصناع الموازي

١/٧ يجوز أن تبرم المؤسسة بصفتها مستصنعًا عقد استصناع مع الصانع للحصول على مصنوعات منضبطة بالوصف المزيل للجهالة وتدفع ثمنها نقدًا عند توقيع العقد، وتبيع لطرف آخر بعقد استصناع مواز مصنوعات تلتزم بصنعها بنفس مواصفات ما اشترته، وإلى أجل بعد أجل الاستصناع الأول وهذا بشرط عدم الربط بين العقدين.

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

30/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب