03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت احرام میں خواتین کا پردہ
87805جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

خواتین کے لیے احرام میں سر کو اس جگہ سے ڈھانپنا لازم ہوتا ہے جہاں سے بال اگتے ہیں؟ وضو کرتے وقت یا کیمپ میں قیام کے دوران اگر کچھ بال باہر آ جائیں تو کیا حکم ہے؟ کیا کیمپ میں بھی خواتین کے لیے دوپٹہ یا اسکارف پہننا لازم ہے یا وہ ہٹا سکتی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس حصے پر بال اگتے ہیں وہ بھی سر کا حصہ ہے۔خواہ حالت احرام ہو یا نہ ہو، بہر صورت نامحرموں سےسر کو ڈھانپنا خواتین کیلئے ضروری ہے۔البتہ جہاں صرف خواتین  یا محرم رشتہ دار ہوں وہاں  سر ڈھانپنا لازم نہیں ۔وضو  کیلئے اولا تو ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں پردے میں خلل نہ واقع ہو،البتہ جہاں یہ مشکل ہو وہاں پوری کوشش کی جائے کہ  نا محرموں کی نظر نہ پڑے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 369):

)و) ينظر (من الأجنبية) ولو كافرة مجتبى (إلى وجهها وكفيها فقط) للضرورة قيل والقدم والذراع إذا أجرت نفسها للخبز تتارخانية.

 حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 371):

(وتنظر المرأة المسلمة من المرأة كالرجل من الرجل)

   حمادالدین قریشی

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

16/ذی القعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب