03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت احرام میں خوشبو کا استعمال
87802حج کے احکام ومسائلاحرام اور اس کے ممنوعات کا بیان

سوال

حالتِ احرام میں خوشبو کا استعمال ممنوع ہے، تو کیا کھانے پینے کی اشیاء میں خوشبو (جیسے فلیورڈ جوس، ٹھنڈے مشروبات، او آر ایس وغیرہ) کے استعمال کا بھی یہی حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کھانے پینے   کی مذکورہ   اشیاء کا استعمال بحالت احرام جائز ہے، کیونکہ ان میں مہک پیدا کرنے کیلئے جو فلیور یا ایسنس(Essence) ملایاجاتا ہے ،اسے نہ عرفا خوشبو سمجھا جاتا ہے ،نہ ہی خوشبو کے حصول کیلئے ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔

یہی تصریح جامعہ دار العلوم کراچی سے صادر فتوی میں  بھی مذکور  ہے:

’’سوال میں جن مشروبات (جوس،کولڈڈرنکس جیسے پیپسی،فانٹا وغیرہ) کاذکر کیا گیا ہے،حالت حرام میں ان مشروبات کا پینا جائز ہے،کیونکہ ان مشروبات میں  مہک پیدا کرنے کیلئے جو فلیور اور  ایسنس (essence) ڈالے جاتے ہیں، انہیں نہ عرفا خوشبو سمجھا جاتا ہے،اور نہ ہی ان کے استعمال کے وقت  خوشبو محسوس ہوتی ہے،اور نہ خوشبو کے حصول کیلئے یہ چیزیں استعمال کی جاتی ہیں،بلکہ ان مشروبات  میں ہلکی سے مہک پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘(ازتبویب جامعہ دار العلوم کراچی:23/2046)

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 547):

وإن ‌خلط ‌بمشروب فالحكم فيه للطيب سواء غلب غيره أم لا غير أنه في غلبة الطيب يجب الدم، وفي غلبة الغير تجب الصدقة إلا أن يشرب مرارا فيجب الدم.

حمادالدین قریشی

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

16/ذی القعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب