| 88022 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
بعض اوقات ایسا موقع آتا ہے کہ ہمارے غیر ملکی شاگردوں کو کسی دوسرے ادارے یا استاد کو ریفر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اور اس کے بدلے کچھ مالی معاوضہ یا "ریفرل فی" کی فرمائش کی جاتی ہے۔کیا شاگردوں کو بطور طالبعلم کسی ادارے یا کسی فرد کے حوالے کر کے اس عمل کے بدلے معاوضہ لیا جائے، تو کیا یہ شرعاً درست ہوگا؟کیا اس طرح کا عمل "بیع الانسان" (یعنی انسان کی خرید و فروخت) کے حکم میں آتا ہے؟ اگر ناجائز ہے تو اس کی کیا شرعی قباحت ہے؟نیز، اگر صرف تعلیمی رہنمائی یا مشورے کے طور پر کسی کو ریفر کرنے کے بدلے خدمت یا مشورہ فیس لی جائے، تو کیا وہ جائز صورت بن سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں موجود دونوں صورتوں میں معاوضہ طلب کیا جاسکتا ہے۔معاوضہ متعین (فِکسڈ) بھی ہوسکتا ہے اور پہلے ماہ ملنے والی تنخواہ کی متعین شرح بھی ہوسکتی ہے۔یہ واضح رہے کہ کمیشن یک باری ہو ۔
جہاں تک پہلی صورت کی بات ہے تو اس میں محض اپنے عُملاء(کلائنٹس) جنہیں خدمات (Services)فراہم کی جاتی ہیں،کو دوسرے اداروں کی جانب مرسل (ریفر) کردیا جاتا ہے ،اس کا انسانوں کی خرید و فروخت سے ہر کوئی تعلق نہیں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 560):
وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
13/محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


