| 88152 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
مردوں کیلئے سر پر ہیئر بینڈ(Hair band) لگانا اور لمبے بالوں پر پونی لگانا کیسا ہے(جامعہ بنوری ٹاؤن کے فتویٰ کے مطابق جائز نہیں کیونکہ عورتوں سے مشابہت ہے اور مفتی طارق مسعود صاحب کا بیان سنا انہوں نے کہا جائز ہے) اور اسکے متعلق ایک حدیث بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چٹُیا باندھی، لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں وہ چٹُیا نہیں بلکہ گیسوتھے ۔اب صحیح کیا ہے ؟اس کے متعلق دلائل سے رہنمائی فرمادیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت مطہرہ نے مردوں کو عورتوں سے اور عورتوں کو مردوں سے ایسے امور میں مشابہت اختیار کرنے سے ممانعت کی ہے جو مخالف صنف کے ساتھ خاص ہوں۔عام حالات میں مذکورہ اعمال(پونی باندھنا،ہیئر بینڈ لگانا) تشبہ بالنساء (خواتین کے ساتھ مشابہت) کی وجہ سے منع ہیں، البتہ کوئی معقول عذر ہومثلا،کوئی لمبا سفر ہو اور بالوں کو کاٹنے کا موقع نہ ہواور انہیں سنبھالنے میں شدید دشواری کا سامنا ہو ،یا اس کے علاوہ کوئی اور معقول وجہ ہوتو پھر اجازت ہے،کیونکہ ایسی ضرورت کی بناء پر یہ اعمال تشبہ بالنساء میں شمار نہ ہوں گے۔
حوالہ جات
فتح الباري بشرح البخاري (360/10)
قال العلامة ابن حجر العسقلاني رحمه الله تعالى:وما دل عليه الحديث من كون شعره صلى الله عليه وسلم كان إلى قرب منكبيه كان غالب أحواله، وكان ربما طال حتى يصير ذؤابة ويتخذ منه عقائص وضفائر كما أخرج أبو داود، والترمذي بسند حسن من حديث أم هانئ قالت: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة وله أربع غدائر وفي لفظ :أربع ضفائر وفي رواية ابن ماجه :أربع غدائر يعني ضفائر والغدائر بالغين المعجمة جمع غديرة بوزن عظيمة، والضفائر بوزنه. فالغدائر هي الذوائب والضفائر هي العقائص، فحاصل الخبر أن شعره طال حتى صار ذوائب فضفره أربع عقائص، وهذا محمول على الحال التي يبعد عهده بتعهده شعره فيها وهي حالة الشغل بالسفر ونحوه والله أعلم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 641):
(وعقص شعره) للنهي عن كفه ولو بجمعه أو إدخال أطرافه في أصوله قبل الصلاة؛ أما فيها فيفسد
(قوله وعقص شعره إلخ) أي ضفره وفتله، والمراد به أن يجعله على هامته ويشده بصمغ، أو أن يلف ذوائبه حول رأسه كما يفعله النساء في بعض الأوقات، أو يجمع الشعر كله من قبل القفا ويشده بخيط أو خرقة كي لا يصيب الأرض إذا سجد؛ وجميع ذلك مكروه، ولما روى الطبراني «أنه - عليه الصلاة والسلام - نهى أن يصلي الرجل ورأسه معقوص» " وأخرج الستة عنه - صلى الله عليه وسلم - «أمرت أن أسجد على سبعة أعضاء، وأن لا أكف شعرا ولا ثوبا» شرح المنية، ونقل في الحلية عن النووي أنها كراهة تنزيه، ثم قال: والأشبه بسياق الأحاديث أنها تحريم إلا إن ثبت على التنزيه إجماع فيتعين القول به.
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
25/محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


