| 88154 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
میرا ایک بھائی کمپنی میں کام کرتا ہے اورکمپنی والے والدین کے علاج کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ دیتے ہیں، جس سے ہم ڈھائی لاکھ تک علاج کرواسکتے ہیں۔کمپنی کی پالیسی یہ ہے کہ اگر کمپنی کاکوئی ملازم یہ کارڈ لینا چاہے تو کمپنی والے اس سے انشورنس کارڈ کی مد میں بائیس ہزار روپے لیتے ہیں اور باقی رقم وہ اپنی طرف سے دیتے ہیں۔ کیا ایسا کارڈ لینا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ روایتی انشورنس کا معاملہ سود،غرر اور قمار جیسے ناجائز امور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں ملازم کا والدین کے علاج کے لیے اپنے اختیار سےکمپنی کو انشورنس کی مد میں رقم جمع کرواکراس کے ذریعےمیڈیکل انشورنس کارڈ لینا یا خود کمپنی کے لیے انشورنس پالیسی کا معاملہ کرنا نا جائز ہے۔
حوالہ جات
تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (5/ 279):
وقال: يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين [البقرة: 278] ثم قال: فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله [البقرة: 279] ثم قال: وإن تبتم فلكم رؤس أموالكم [البقرة: 279] ثم قال: ومن عاد فأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون [البقرة: 275] جعل آكل الربا في أول الأمر مؤذنا بمحاربة الله، وفي آخره متعرضا للنار.
صحيح البخاري (5/ 38):
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن سعيد بن أبي بردة، عن أبيه، أتيت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام رضي الله عنه، فقال: ألا تجيء فأطعمك سويقا وتمرا، وتدخل في بيت، ثم قال: إنك بأرض الربا بها فاش، إذا كان لك على رجل حق، فأهدى إليك حمل تبن، أو حمل شعير، أو حمل قت، فلا تأخذه فإنه ربا، ولم يذكر النضر، وأبو داود، ووهب، عن شعبة البيت.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


