| 88302 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
اگر کچھ مساجد کے حضرات مسجد میں عید کی نماز پڑھنا چاہیں، تو کیا ان سے عیدگاہ میں نماز پڑھنے کی سنت فوت ہو جائے گی؟ اگر چار یا پانچ مساجد مل کر کسی ایک مقام پر عید کی نماز ادا کریں، تو کیا یہ مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے یا ثواب میں برابر ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عیدین کی نماز آبادی سے باہر عیدگاہ جاکر ادا کرنا مسنون ہے ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ شریفہ یہی تھی وہ آبادی سے باہر عیدگاہ جاکر عیدین کی نماز ادا فرماتے تھے، کیونکہ آبادی سے باہر عیدین کی نماز پڑھنے کا مقصد مسلمانوں کی شان وشوکت کا اظہار تھا ،لہذابلا عذر صحت مند لوگوں کا عیدگاہ چھوڑ کر مسجد میں عیدین کی نماز ادا کرنا خلاف سنت ہے، سنت کا ثواب حاصل نہ ہوگا ،البتہ جو عیدگاہیں آبادی میں واقع ہیں ان کا حکم عام مساجد کا ہے ،لہذا اگر کوئی شخص عید کی نمازآبادی میں واقع عید گاہ میں ادا کرے یا مسجد میں ادا کرے تو نماز تو ادا ہوجائی گی اور دونوں کا ثواب یکساں ہوگا ،مگر سنت کا مکمل ثواب حاصل نہ ہوگا ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 101):
السنّة في صلاة العيد أن تقام خارج المصر بالجبانة، ولا يمكن للضعفاء الخروج إليها إلا بحرج عظيم، فجوزنا الإقامة في موضعين دفعاً للحرج.
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
03 /صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


