03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہبہ کی گئی رقم پر قبضہ دینے سے پہلے ہدیہ کرنے والے کا فوت ہو جانا
88432ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ایک شخص ذہنی طور پر کمزور تھا، اس نے اپنی زمین ایک بھائی کے نام کردی اور بہنوں کو  ایک ایک کروڑ روپیہ دینے کا ارادہ کیا، ایک بہن کو اس نے کروڑروپیہ دیا، دوسری بہن کے لیے اپنے اکاؤنٹ میں رکھا اور اس سے کہا یہ رقم آپ کی ہے،آپ جب چاہیں یہ رقم صول کر سکتی ہیں، لیکن بہن نے ابھی رقم وصول نہیں کی تھی کہ وہ بھائی فوت ہو گیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کے ورثاء پر لازم ہے کہ وہ بقیہ سب بہنوں کو بھی ایک ایک کروڑ روپیہ دیں؟ نیز اس ایک کروڑ روپے کا کیا حکم ہے؟ کیا بہن اس کی مالک ہے یا بھائی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بہن نے چونکہ ایک کروڑ روپیہ پر بھائی کی زندگی میں قبضہ نہیں کیا تھا، بلکہ وہ رقم بھائی کی وفات تک اس کے اکاؤنٹ میں ہی موجود تھی، اس لیے بہن اس رقم کی شرعاً مالک نہیں بنی تھی، کیونکہ ہدیہ کا مالک بننے کے لیے زندگی میں اس پر قبضہ کرنا ضروری تھا، لہذا اب وہ رقم بھائی کی وراثت شمار ہو گی، جس میں اس  کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 119) دار الكتب العلمية، بيروت:

(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم كالعبد والحمام والدن ونحوها وهذا عندنا۔۔۔۔۔۔۔ ولهذا جازت هبة المشاع فيما لا يقسم وإن كان القبض فيها شرطا لثبوت الملك كذا هذا.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 223) دار احياء التراث العربي – بيروت:

ولنا أن القبض منصوص عليه في الهبة فيشترط كماله والمشاع لا يقبله إلا بضم غيره إليه ولأن في تجويزه إلزامه شيئا لم يلتزمه وهو مؤنة القسمة، ولهذا امتنع جوازه قبل القبض لئلا يلزمه التسليم، بخلاف ما لا يقسم؛ لأن القبض القاصر هو الممكن فيكتفى به؛ ولأنه لا تلزمه مؤنة القسمة. والمهايأة تلزمه فيما لم يتبرع به وهو المنفعة، والهبة لاقت العين ۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

26/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب