03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تفویض طلاق مجلس تک محدود ہو گی یا نہیں؟
88041طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

وقار صاحب کے ساتھ میری شادی کو سات سال ہو چکے ہیں، مجھ سے پہلے بھی ان کی نو سال تك ایک شادی رہ چکی ہے، انہوں نے اپنی پہلی بیوی کو شادی كےدو ڈھائی سال بعد طلاق دی، پھر  تقریبا چھٹے سال دوسری  اور نویں سال تیسری طلاق دیدی تھی،  اس کے چھ سات ماہ بعد مارچ 2018ء میں ہماری شادی ہوئی،  اس شادی کو مارچ 2025 میں سات سال مکمل ہو چکے ہیں، شادی کے تقریباً 5 سال تک وقار صاحب مجھے بھی 2 طلاقیں دے چکے ہیں، پہلی طلاق رجعی دی تھی، پھر رجوع کر لیا تھا، دوسری طلاق کے وقت 2023ء کے شروع میں تجدید نکاح ہوا تھا۔

ستمبریا اکتوبر 2023ءمیں میں نے وقار صاحب سے سے کہا کہ مجھے آپ کا بالکل اعتبار نہیں، نہ جانے کب تیسرا اور آخری اختیار بھی استعمال کر لیں ،آپ یہ اختیار مجھے دیدیں، میں ان شاء اللہ اسے کبھی استعمال نہیں کروں گی۔یہ بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی کہ اس کے باوجود بھی شوہر کے پاس حق موجود رہتا ہے ،  بہر حال میں وقتا فوقتا اصرار کرتی رہی ، وہ انکار کرتے  رہے، کچھ دن ایسا ہی چلتا رہا، ایک دن میں نے وقار صاحب سےکہا، مجھے اختیار دے کیوں نہیں دیتے ؟ ابھی دیں ۔ انہوں نے کہا جا، دیدیا۔

اس کے بعد 15 دسمبر 2023ء کو وقار صاحب کی طرف سے بے حد دل برداشہ  کر دینے والا معاملہ ہوا، جس پر میں نے وہ اختیار استعمال کرتے ہوئے اپنے اوپر طلاق واقع کردی۔ میں نےيوں کہا کہ میں آپ کے دیے ہوئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے مکمل ہوش و حواس میں خود کو طلاق دیتی ہوں کہ آج کے بعد میں آپ کی بیوی نہیں ہوں یہ جملے بار بار کہے تھے، میرے ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی وقار صاحب میرے قدموں میں بیٹھے گئے اور دونوں ہاتھوں سے میرے پاؤں پکڑ کر کہا: یہ کیا کر دیا تو نے؟ تجھے اللہ کا واسطہ! مجھے چھوڑ کر مت جاؤ، میں برباد ہو جاؤں گا۔ دیکھ میں تیرے آگے ہاتھ جوڑ رہا ہوں، اس کے بعد روتے ہوئے کہنے لگے، دیکھ کسی کو کچھ مت بتائیو، خاص طور پر اپنے میکے والوں کو تو ہوا تک نہ لگنے دینا۔ حلالہ کر کے دوبارہ مجھ سے نکاح کرلے۔ سب کچھ مجھ پر چھوڑ دے، میں خود تیرا حلالہ کراؤ ں گا،  بس چھ سات مہینےکی بات ہے ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں ابھی سے دوسرے کمرے رہوں گا، تجھے چھوؤ ں گا بھی نہیں ۔ جب تیری عدت کے تین مہینے گزر جائیں گے تو بتادینا، میں خود کسی سے حلالہ کے لئے تیرا نکاح کراؤں گا، پھر جب وہ آدمی چھوڑ دے گا ، وہ عدت بھی اسی طرح چپ چاپ گزار لینا، پھر ہم دونوں دوبارہ نکاح کر لیں گے ۔

یہ ساری تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وقار احمد کو مکمل یقین ہو گیا تھا کہ طلاق ہوگئی ہے، وقار صاحب کی انتہائی عاجزانہ منتوں نے میرے منہ پر مہر لگادی تھی  اور میں نے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔ اس کے ایک دو دن بعد سے وقار صاحب نے یوٹیوب پر علمائے کرام کے احکام طلاق اور تفویض طلاق کے متعلق کلپس وغیرہ دیکھے اور قریبی مسجد کے امام صاحب سے درپیش صور حال میں گنجائش کی صورت نکالنے کے حوالے سے مشورہ کیا  کہ کن کن صورتوں میں گنجائش نکل سکتی ہے اور کن صورتوں میں نہیں؟  انہیں علم ہوا کہ گنجائش فقط اسی صورت نکل سکتی ہے کہ اختیار طلاق صرف مجلس کے لئے دیا گیا ہو۔

اس کے بعد سےوہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے تو اختیارِ طلاق صرف مجلس کے لئے دیا تھا۔ جب کہ موجودہ معاملہ سے پہلے اور بعد بھی یو ٹیوب پر تفویض طلاق کے مسائل سننے اور امام صاحب سے گنجائش کی صورت کا مسئلہ معلوم ہونے سے پہلے تک ہم دونوں ہی مجلس، غیر مجلس ، عارضی یا دائمی اختیار طلاق کے مسئلے سے بالکل لاعلم تھے، ہم دونوں اس سے پہلے یہ نہیں جانتے تھے کہ تفویضِ طلاق مجلس کے لئے بھی ہوتا ہے، بلکہ ہم دونوں ہی تفویض طلاق کو دائمی سمجھتے تھے۔اب وقار صاحب عجیب گول مول قسم کے بیان دے رہے ہیں، غلط بیانی کر رہے ہیں، ایک طرف کہتے ہیں کہ تو نے کہا تھا مجھے اختیار دیں ، میں ابھی استعمال کرتی ہوں،کبھی کہتے ہیں کہ  میں نے غصہ میں کہہ دیا تھا جا دیدیا۔ کبھی کہتے ہیں کہ مجھے یقین تھا کہ تو کبھی بھی اپنے اوپر طلاق واقع نہیں کرے گی ، اس لئے اختیار دیدیا تھا ۔

وقار صاحب دیگر معاملات میں بھی اپنے مفاد کے لیے غلط بیانی اور جھوٹ کا کافی سہارا لیتے ہیں اور بعد میں اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کےلیے چھوٹی قسمیں بھی کھاتے ہیں اور جھوٹا قرآن تک بھی اٹھا چکے ہیں، ذراسی ندامت تک نہیں ہوتی  اور ہر معاملہ میں اپنے آپ کو صحیح اور سامنے والے کو غلط ہی کہتے ہیں۔اب سوال پر ہے کہ میں نے جو وقار صاحب کے دیے گئے اختیار طلاق کو استعمال کرتے ہوئے خود کو طلاق دی وہ واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ پہلے بھی جامعة الرشید سے اس سے متعلق فتوی لیا تھا، اس میں ہم نے طلاق کے بعد وقار صاحب کے حلالہ کروانے والی بات نہیں لکھی، اس لیے اب تفصیل ذکر کر کے دوبارہ فتوی پوچھا ہے، پہلا فتوی ساتھ منسلک ہے، اس میں جواب یہ دیا گیاتھا کہ اگر شوہر اس بات پر قسم اٹھالے لے کہ میں نےمجلس تک ہی اختیار تھا تو اس کی بات معتبر مانی جائے گی۔، جبکہ اس کا بعد والا بیان اس کی باتوں کے معارض ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ تفویض طلاق کے وقت اگر عمومی الفاظ استعمال نہ کیے جائیں تو عورت کو طلاق کا اختیار صرف اس مجلس تک ہی محدود رہتا ہے، لیکن سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کی روشنی میں تفویض طلاق کے سیاق اور پس منظر(میں نے وقار صاحب سے کہا کہ مجھے آپ کا بالکل اعتبار نہیں، نہ جانے کب تیسرا اور آخری اختیار بھی استعمال کر لیں ، یہ اختیار مجھے دیدیں، میں ان شاء اللہ اسے کبھی استعمال نہیں کروں گی۔) سے یہ اختیار مجلس کے ساتھ محدود ہونے کی بجائے عام معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آپ کا مقصد عمومی اختیار لینا تھا، اس کے جواب میں شوہر نے کہا:"جا، دیدیا" تو فقہائے کرام رحمہم اللہ کے بیان کردہ اصول"الجواب معاد الی السئوال" (جواب کا مفہوم اور مطلب سائل کے سوال کے مطابق لیا جائے گا) کی بناء پر شوہرکے اس جواب سے عموم ہی مراد لیا جائے گا، اس کے خلاف شوہر کی نیت معتبر نہیں ہو گی۔ اس پر ایک اورواضح قرینہ طلاق واقع کرنے کے بعد شوہر کے درج ذيل الفاظ بھی ہیں:

دیکھ کسی کو کچھ مت بتائیو، خاص طور پر اپنے میکے والوں کو تو ہوا تک نہ لگنے دینا۔ حلالہ کر کے دوبارہ مجھ سے نکاح کرلے۔ سب کچھ مجھ پر چھوڑ دے، میں خود تیرا حلالہ کراؤ ں گا،  بس چھ سات مہینے کی بات ہے ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں ابھی سے دوسرے کمرے رہوں گا، تجھے چھوؤ ں گا بھی نہیں ۔ جب تیری عدت کے تین مہینے گزر جائیں گے تو بتادینا، میں خود کسی سے حلالہ کے لئے تیرا نکاح کراؤں گا، پھر جب وہ آدمی چھوڑ دے گا ، وہ عدت بھی اسی طرح چپ چاپ گزار لینا، پھر ہم دونوں دوبارہ نکاح کر لیں گے ۔

شوہر کے مذکورہ بالا الفاظ صاف دلالت کر رہے ہیں کہ انہوں نے طلاق کا عمومی اختیار دیا تھا اور شرعاً احکام کے ثبوت میں دلالتِ حال بھی صراحت کے قائم مقام ہوتی ہے، لہذا اگر یہ اختیار مجلس تک محدود ہوتا تو وہ اس طلاق کے فوراً بعد کہتے کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ میں نے آپ کو مجلس کی حد تک محدود اختیار دیا تھا، جبکہ انہوں نے طلاق کی نفی کرنے کی بجائے اس کے وقوع کو تسلیم کیا اور آپ کو حلالہ کروانے  اور پھر دوسرا نکاح کرنے پر  آمادہ کرنے لگے، اس لیے اب وقار صاحب کا یہ کہنا درست نہیں کہ میری نیت صرف مجلس کی حد تک محدود اختیار دینے کی تھی، بلکہ گفتگو میں تعارض کی وجہ سے اب ان کی اس بات کا اعتبار نہیں کیا  جائے گا، لہذا تیسری طلاق کے وقوع سے آپ کی عدت شروع ہو چکی ہے، عدت مکمل کر کے آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہیں۔

حوالہ جات

شرح القواعد الفقهية (ص: 145) دار القلم – دمشق:

قد تكون الدلالة في بعض الأوقات أقوى من الصريح، يثبت بها ما لا يثبت به، وذلك في مسألة واحدة لم أظفر بثانية لها، وهي ما نصوا عليه من أن الحاكم ليس له أن يستنيب آخر عنه إلا إذا كان مفوضا له بالاستنابة صريحا، كول من شئت ونحوه، أو مفوضا له دلالة كجعلناك قاضي القضاة، فإذا كان التفويض له صريحا بما ذكر فإنه يملك الاستنابة ولا يملك عزل النائب، أما إذا كان التفويض له دلالة فإنه يملك الاستنابة والعزل. (ر: الدر المختار، فصل الحبس، عند قول المتن: ولا يستخلف قاض) . فقد عملت الدلالة هنا ما لا يعمله الصريح، ويثبت بها ما لم يثبت به.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 236) دار احياء التراث العربي – بيروت:

فصل في الاختيار:" وإذا قال لامرأته اختاري ينوي بذلك الطلاق أو قال لها طلقي نفسك فلها أن تطلق نفسها ما دامت في مجلسها ذلك فإن قامت منه أو أخذت في عمل آخر خرج الأمرمن يدها " لأن المخيرة لها المجلس بإجماع الصحابة رضي الله عنهم أجمعين ولأنه تمليك الفعل منها والتمليكات تقتضي جوابا في المجلس كما في البيع لأن ساعات المجلس اعتبرت ساعة واحدة..........الخ.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 242) دار احياء التراث العربي – بيروت:

" ولو قال لها أنت طالق إذا شئت أو إذا ما شئت أو متى شئت أو متى ما شئت فردت الأمر لم يكن ردا ولا يقتصر على المجلس " أما كلمة متى ومتى ما فلأنهما للوقت وهي عامة في الأوقات كلها كأنه قال في أي وقت شئت فلا يقتصر على المجلس بالإجماع ولو ردت الأمر لم يكن ردا لأنه ملكها الطلاق في الوقت الذي شاءت فلم يكن تمليكا قبل المشيئة حتى يرتد بالرد ولا تطلق نفسها إلا واحدة لأنها تعم الأزمان دون الأفعال فتملك التطليق في كل زمان ولا تملك تطليقا بعد تطليق وأما كلمة إذا وإذا ما فهما ومتى سواء عندهما وعند أبي حنيفة رحمة الله تعالى عليه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

16/محرم الحرام1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب