| 88352 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میری شادی کو تقریباً آٹھ سال چکے ہیں، شوہر کا رویہ انتہائی نازیبا ہے، شوہر نے چھپ کر دوسری شادی کی ہے، لیکن نفقہ برداشت کرنے کی استطاعت بالکل نہیں ہے، مجھ سے پہلے کہا کہ تم کماؤ، میں نےملازمت شروع کی تو مجھے کہا تم بیس ہزار گھر کے اخراجات میں دو گی، میں نے کہا ٹھیک ہے، میں بیس ہزار دیتی رہی، پھر اس نے دوسری شادی کی تو مجھ سے کہا تم پینتالیس ہزار ماہانہ روپیہ دو گی، میں نے انکار کیا کہ اتنی میرے اندر ہمت نہیں ہے توکہنے لگا کہ اپنے والد سے لے کر آؤ، ورنہ ہم دونوں کے راستے الگ الگ ہیں، میں طلاق کے کاغذات بھجوا دوں گا، میں نے کہا ابو سے نہیں مانگوں گی تو کہنے لگا کہ ابھی زبانی طلاق لے لو، میں نے کہا کہ مجھے ریکارڈ کرنے دو، تاکہ بعد میں جھوٹ نہ بولو کہ نہیں دی، ریکارڈ کرنے لگی تو رک گیا اور کہا کہ کاغذات بھجوا دوں گا، میں نے کہا تم نے دوسری شادی کی ہے تو دونوں بیویوں کا خرچہ بھی تو اٹھاؤ، اس پر اس نے کہا میرے پاس خرچہ نہیں ہے، تم ماہانہ پچیس ہزار روپیہ دیا کرو، ہمیشہ ساٹھ سے ستر فیصد خرچ میرے والدین نے اٹھایا ہے۔ اب میں اس سے علیحدگی چاہتی ہوں، ڈیڑھ ماہ سے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا ہوا ہے ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا، ازراہ کرم یہ بتادیجیے کہ عدالت سے نکاح کیسے ختم ہو گا؟ کیونکہ شوہر کا کہنا میں طلاق نہیں دوں گا اور عدالت بھی نہیں جاؤں گا۔
وضاحت:سائلہ نے بتایا کہ میرے دو بھائی بطور گواہ موجود ہیں، جو نان ونفقہ نہ ہونے کی بنیاد پر عدالت میں گواہی دے سکتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں عدالتی فیصلہ کے شرعاً معتبر ہونے کے لیے عورت کا اپنے دعوی کو باقاعدہ گواہوں سے ثابت کرنا ضروری ہے، لہذا سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق اگر آپ کے بھائی بطورِگواہ عدالت میں بیان دے دیتے ہیں کہ شخصِ مذکور ہماری بہن کو نان ونفقہ نہیں دیتا اور عدالت اس کی بنیاد پرفسخِ نکاح یا خلع کی ڈگری جاری کر دیتی ہےتو ایسی صورت میں یہ عدالتی خلع کا فیصلہ صحیح اور معتبر ہے، اگرچہ اس میں خلع کے الفاظ ذکر کیے گئے ہوں، لیکن شرعاً ان سے فسخِ نکاح مراد لیا جائے گا، کیونکہ خلع کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی کا ہونا ضروری ہے۔عدالت سے فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہوجائے گا اور اسی دن سے آپ کی عدت شروع ہو جائے گی اورعدت مکمل ہونے پر آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہوں گی۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
14/صفرالخیر1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


