| 88057 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اکثر لوگ Microsoft کی crack windows استعمال کرتے ہیں، اور یہ argument دیتے ہیں کہ چونکہ Microsoft ایک بڑی کمپنی ہے اور لاکھوں لوگ crack استعمال کر رہے ہیں، اس لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں،لیکن میں نے سنا ہے کہ بعض علما کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے اگر کمپنی اس سے متاثر نہ ہو اور بعض کہتے ہیں کہ crack یا بغیر اجازت software استعمال کرنا حرام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر Microsoft کی crack window استعمال کرنا واقعی حرام ہے، تو کیا پھر LinkedIn کی پالیسی کی خلاف ورزی بھی حرام ہوگی؟ اور اگر crack window کو “چونکہ بہت عام ہے (تقریباً پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں) اور کمپنی کو فرق نہیں پڑتا” کہہ کر جائز کہا جا سکتا ہے تو کیا یہی اصول LinkedIn پر بھی لاگو ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ بھی مائیکروسافٹ کی ہی ایپ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ (Crack Window) اور (LinkedIn) اکاونٹ کی خرید و فروخت میں بنیادی نوعیت کا فرق ہے ۔ (Crack Window) کے جواز کے حوالے سے درج ذیل امور واضح ہوں:
سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ کے قوانین حقوق کی مالیت کے نظریہ پر مبنی ہے اور یہ نظریہ اتفاقی نظریہ نہیں،بلکہ شروع سے معتبر اہل علم کا اس میں اختلاف رہا ہے،چنانچہ ان اہل علم کے ہاں کتابوں کے حق تالیف کو محفوظ کرنے کا بھی شرعا کوئی اعتبار نہیں،حالانکہ سافٹ ویئرز کی بنسبت کتاب خریدنا عام لوگوں کے لیے آسان ہے،جبکہ اس کے بالمقابل سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ کے قوانین جن ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بنائے ہیں وہ ایک ایک سافٹ ویئر کی اتنی زیادہ قیمت مقرر کرتے ہیں کہ انہیں خریدنا ایک عام آدمی کے بس میں نہیں رہتا،اس لیے ان قوانین کا اعتبار کرنا ایک بڑے طبقے کو علم و فن سے محروم کرنے اور بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری قائم رکھنے کے مترادف ہے،اس لیے ذاتی استعمال کی حد تک سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ کے قوانین کا شرعا اعتبار نہیں،یہ مصلحتِ عامہ اور حقوق مجردہ کی مالیت متفق علیہ نہ ہونے کا مشترکہ تقاضا ہے،لہذا اس طرح کے سوفٹ وئیرز کو استعمال کرنے کی شرعا ً گنجائش ہے۔ (ماخوذ از تبویب : 70717)
جبکہ (LinkedIn) اکاونٹ کی خرید و فروخت کے عدم جواز کی درج ذیل وجوہات ہیں:
.1 (LinkedIn) اکاؤنٹ کو ذاتی حد تک استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے اجارہ داری وغیرہ کی کوئی خرابی لازم نہیں آتی ۔
.2 آگے دوسرے لوگوں کو اکاونٹ کی خرید و فروخت سے منع کرتاہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اکاونٹس کو جعل سازی ، غلط خبروں کی تشہیر اور دوسرے صارفین کو دھوکہ دہی سے روک تھام کرنا ہے، جو کہ مصلحت عامہ کے موافق ہے۔
لہذا مذکورہ بالا امور کو مدِ نظر رکھتے ہوے یہ بات واضح ہے کہ (LinkedIn) کی اجازت کے بغیر اکاؤنٹ کی خرید و فروخت یا کرایہ پر دینا شرعاً درست نہیں۔
حوالہ جات
رد المحتار (4/ 518):
"مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل".
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 44):
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
17/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


