| 88131 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہم خاندان والے ایک ساتھ کھانا پینا کرتے ہیں،میرے چار چچا اور والد صاحب زندہ ہیں، ان کے درمیان باقاعدہ کوئی عقد شرکت نہیں ہوا،جب میں بالغ ہوگیا، کام کاج کے قابل ہوا تو اس سے پہلے ان حضرات کے پاس کوئی خاص سرمایہ نہیں تھا، بعد میں میں نے بھی کمائی شروع کی، اور میرے چچا اور والد صاحب بھی اپنی اپنی جگہ کماتے تھے، ہر ایک کا الگ کاروبار تھا۔ میں کبھی اپنا الگ کام کرتا، کبھی چچا کے ساتھ، لیکن والد صاحب کے ساتھ کام نہیں کیا اور نہ ہی ان کے سرمائے کے ذریعے کوئی کام کیا۔
ایسی حالت میں کچھ سال بعد ایک زمین خریدی گئی، جس کی قیمت میں میرا پیسہ بھی شامل تھا، اور میرے چچاؤں اور والد صاحب کا سرمایہ بھی شامل تھا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس زمین کی تقسیم میں میرا حصہ شرعاً بنتا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کی صورت پوری طرح واضح نہیں کہ کیا یہ زمین سب شرکاء کی باہمی رضامندی سے مشترکہ طور پر خریدی گئی تھی؟یا کسی ایک فرد نے ذاتی طور پر خریدی اور باقی افراد نے صرف مالی تعاون کیا تھا۔
لہذا ممکنہ صورتوں کا شرعی حکم ذیل میں بیان کیا جاتاہے:
1۔اگر زمین تمام شرکاء (آپ، آپ کے والد اور چچاؤں) نے باہمی رضامندی سے مشترکہ طور پر خریدی ہو، اور ہر ایک نے قیمت میں اپنا حصہ شامل کیا ہو تو ایسی صورت میں تمام شرکاء اپنی اپنی طرف سے ادا کی گئی رقم کے تناسب سے اس زمین کے مالک ہوں گے، اور تقسیم کے وقت ہر ایک کو اسی تناسب سے حصہ دیا جائے گا۔
2۔اگر زمین خاندان کے کسی ایک فرد نے اپنے لیے ذاتی طور پر خریدی ہو، اور باقی افراد (آپ سمیت) نے خریدار کو کچھ رقم مہیا کی ہو تو ایسی صورت میں دو احتمال ہوں گے:
اگر یہ رقم بطور قرض دی گئی تھی، تو زمین خالص خریدار کی ملکیت ہوگی، اور آپ کے ساتھ قرض کا تعلق ہوگا، آپ زمین میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ خریدار آپ کا قرض واپس کرنے کا پابند ہوگا۔
اگر رقم بطور ہبہ یا احسان دی گئی ہو (یعنی بلا عوض مدد کے طور پر دی ہو)، تو خریدار زمین کا مکمل مالک ہوگا، اور وہ آپ کی رقم واپس کرنے کا پابند بھی نہیں ہوگا، اور آپ کو زمین میں حصہ مانگنے کا کوئی شرعی حق حاصل نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ کوئی صورت ہو تو مکمل تفصیل لکھ کر اس کا حکم الگ سے پوچھا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
الاختيار لتعليل المختار (3/ 12):
أما شركة الأملاك... والاختيارية أن يشتريا عينا أو يتهبا أو يوصى لهما فيقبلان أو يستوليا على مال أو يخلطا مالهما، وفي جميع ذلك كل واحد منهما أجنبي في نصيب الآخر، لا يتصرف فيه إلا بإذنه.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 389):
الهبة هي تمليك مال لآخر بلا عوض۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
21/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


