03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صغیرہ کے نکاح کا حکم
87744نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

میری کزن کا نکاح اس وقت کیا گیا تھا جب وہ بہت چھوٹی اور  نہ سمجھ تھی ،جب اس لڑکی کے بھائی کی بارات گئی، تو اس کے بھائی کے سسرال والوں نے کہا کہ وہ رخصتی اس وقت تک نہیں کریں گے ،جب تک وہ بدلے میں رشتہ نہیں دیں گے ،یہ ان کی شرط پہلے نہ تھی جب اس کے بھائی کا رشتہ  ہوا تھا ،تو اس وقت کی صورت حال کو دیکھ کر لڑکی کے والد نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ دے گا ،لیکن لڑکے والوں نے اسی وقت نکاح کا مطالبہ کر دیا ،   لڑکی اس وقت بالکل ناسمجھ تھی ،اس وقت اس کی  عمر چار سے پانچ سال  تھی ،یعنی  اسے ان چیزوں کا بالکل کچھ پتہ نہیں تھا ،جبکہ  اس وقت لڑکے کی عمر 16سے 17 سال تھی ۔

   کچھ عرصے بعد جب لڑکی با شعور ہوئی  اور اسے پتا چلا کہ اس کا تو نکاح ہوا ہے اور اسے پتہ تک نہیں ،تو اس نے اس لڑکے سے شادی کرنے سے انکار کردیا ، پھر ان کے گھر والوں نے اس لڑکے  سے طلاق کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے طلاق دینے سے انکار کردیا ۔

   اس پر لڑکی والے عدالت میں چلے گئے اور انہوں نے خلع کا دعویٰ کر دیا ۔جس پر عدالت نے اس لڑکے کو طلبی کا نوٹس بھیجا لیکن وہ   عدالت کے بار  بار  بلانے پر  حاضرنہ  ہوا  ۔

   اس پر عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ اس وقت لڑکی نا بالغ تھی اور نہ سمجھ تھی اور اس پر عدالت نے لڑکی کو اس نکاح سے بری کر دیا ۔شرعی  اعتبار سے اس نکاح کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد کے بچپن میں کروایا گیا  نکاح منعقد ہو جاتاہے اور بالغ ہونے کے بعد خیار بلوغ نہیں رہتا ،بشرطیکہ والد کی طرف سے سوء خیار نہ پایاجائے، اور سوء خیار ہونے کی صورت میں حکم میں درج ذیل تفصیل ہے:

1۔عموماً سوء خیار کی بناء پرصالحہ کا غیر کفویعنی فاسق کے ساتھ نکاح ہوتا ہے،لہذا ایسا نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔

2۔اگروالدنے نابالغ بچی کا نکاح مہر مثل کے ساتھ کفومیں کیاہو،البتہ سوء خیار کی وجہ سے اس میں باپ کی طمع اور ذاتی غرض کی وجہ سے بچی کے حقوق زوجیت کی مصلحت ورعایت کا نہ پایاجانا یقینی ہو ،مثلا عمرمیں بہت زیادہ  فرق ہو یا شوہر دائم المرض ہو یا معتوہ ہو یا اپاہج ہو تو اس بارے میں  نکاح تو باطل نہ ہوگا ،لیکن لڑکی کو سوء خیار کی وجہ سے خیار بلوغ دیا جائے گا،لہذا وہ خیار بلوغ کی شرائط معہودہ کے ساتھ عدالت میں  مقدمہ پیش کر ے اور حاکم اہل رائے سے حالات کی تحقیق کرکے مناسب سمجھے تو نکاح فسخ کردے(ماخوذ ازاحسن الفتاوی:ج۵،ص۱۱۸ تا ۱۲۴)

صورت مسئولہ میں والد کا سوء خیار تو ظاہر ہے کہ  معاشرتی رسوائی سے بچنے  اور دوسرے بیٹے کی مصلحت کے پیش نظر بیٹی کی مصلحت کو پس پشت ڈال دیا،  لہذا اس بناء پر لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہوگا۔

جہاں تک خیارِبلوغ کے استعمال کی بات ہے تو  لڑکی چونکہ  عدالت سے رجوع کر چکی ہے اور عدالت  نے  فسخ نکاح کا فیصلہ  بھی کر دیا ہے ،چنانچہ عدالت کا یہ فیصلہ درست ہے ، لہذا   لڑکی کسی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

یہ  بھی واضح رہے کہ عدالت اگر فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے ، جبکہ ابھی تک لڑکے اور لڑکی کی درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ ہو  ا ہو، تو لڑکی کو مہر  لینے کا کوئی حق نہیں ۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

3/ذی  الحجہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب