| 87743 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
عرض ہے کہ حالیہ دنوں میں ہماری برادری میں الیکشن ہوئے ،جس میں الیکشن کمیشن بنایا گیا جس کا میں خود بھی ممبر تھا،کمیشن نے الیکشن فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ7.5.2025دی، تاریخ ختم ہونے پر صرف دو فارم جمع ہوئے صدر اور نائب صدر کا ، اس کے علاوہ کوئی فارم جمع نہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے تاریخ بڑھا کر 10.5.2025کردی، یہاں میرے خیال سے ان دو امیدوار وں کے ساتھ زیادتی کی گئی، کیونکہ ان دو سیٹ پر جب ان کے علاوہ کوئی اور امیدوار نہ تھا تو ان کی جیت کا اعلان کیا جاتا اور باقی تین سیٹوں پر تاریخ بڑھائی جاتی، لیکن الیکشن کمیشن نے تمام سیٹوں پر تاریخ بڑھائی، جس پر امیدوار و ں نے دس دن بعد اعتراض کیا اور الیکشن کی سیٹوں سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کر دیا 10.5.2025کو جو دوسری بار تاریخ دی گئی اس تاریخ کے ختم ہونے پر ایک نشست پر صرف ایک امیدوار نے فارم جمع کروایا ،تو الیکشن کمیشن نے اس کی جیت کا اعلان کردیا ۔ اس حساب سے ان دو امیدوار وں کے ساتھ زیادتی کا عنصر پایا جاتا ہے، اس کےعلاوہ جب انہوں نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ ہم نے الیکشن سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے تو ہمارا نام اور نشان بلیٹ پیپر میں نہ دیا جائے، لیکن الیکشن کمیشن نے اس کےباوجود ان کے نام بلیٹ پیپر میں دیے ، کیا یہ بات شرعاً جائز ہے کہ کسی کے منع کرنے کے باوجود اسکا نام استعمال کیا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ معاملے میں یکطرفہ بات سن کر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، اس کے علاوہ لوگوں نے مقامی الیکشن کمیٹی کو کیا اختیارات دیے تھے ، اس حوالے سے بھی مسئلے میں وضاحت نہیں،لہذا اس معاملے کا بہتر حل یہ ہے کہ جانبین باہمی رضامندی سے علاقے کی بااثر معزز شخصیات کے سامنے اس معاملے کو پیش کریں ،جس میں کچھ مقامی علماء کرام کو بھی شامل کرلیں جن کو تمام صورت حال کا اندازہ ہو ، یوں اس معاملے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرلیں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4/ذی الحجۃ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


