| 87313 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
متوفی کے درثاء میں بیوہ حقیقی بیٹی، حقیقی بھائی، اور متوفی کی زندگی میں فوت شدہ بھائی کے چار بیٹے اور آٹھ بیٹیوں کے درمیان ترکہ کو شرعی طریقہ کے مطابق کیسے تقسیم کیا جائے گا؟
بیان حلفی: سائل حلفا بیان کرتا ہےکہ مندرجہ بالا میں جو کچھ بھی درج کیا گیا ہے وہ حرف با حرف درست اور صحیح ہے۔ کوئی بھی بات مخفی نہیں رکھی گئی۔ سائل نے اپنی طرف سے پوری ذمہ داری سے جو حقیقت ظاہری طور پر محلف کے علم میں آئی ہے بیان کر دی ہے ۔ دلوں کے حال میرا رب جانتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔
میراث کے 8حصے بنائے جائیں گے،جن میں سے4 حصے بیٹی کو،1 حصہ بیوی کو،جبکہ3 حصے بھائی کو ملیں گے۔
میت کے بھتیجوں اور بھتیجیوں کو مال وراثت میں کچھ نہیں ملے گا،وہ اس حق سے محروم ہوں گے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیٹی |
4 |
50 |
2 |
بیوی |
1 |
12.5 |
3 |
بھائی |
3 |
37.5 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
28/ شوال 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


