03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایسے امام کےپیچھے نماز کاحکم جس پر زنا کاشک ہو
86853نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر امام زانی ہو تو اس کے پیچھے جتنی بھی پڑھی گئی نمازیں تھی ان  کا کیا حکم ہے؟ کیاوہ صحیح ہوگئی امام نے غیر محرم عورت کے ساتھ بیٹھ کرسفر کیا، اس کےہاتھ میں ہاتھ ڈالا، اس کےعلاوہ بھی امام کااس عورت کے ساتھ اور بھی تعلقات ہیں،  لیکن یہ سب شک کے دائرے میں ہے تو اس صورت میں اس امام کےپیچھے اقتدا کا کیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت  مسئولہ میں اگرامام واقعۃً نامحرم خواتین کےساتھ بےتکلفی سےپیش آتاہےاوران کےساتھ آزادانہ تعلقات رکھتاہےتوعام حالت میں ایسےامام کےپیچھےنمازپڑھنامکروہ ہے، جس سےاحترازکرناچاہیے، البتہ اگرفی الوقت کوئی دوسرامتقی پرہیزگارامام میسرنہ ہواورجماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو اس صورت میں اس کے پیچھے باجماعت نماز ادا کرنا انفرادی طورپر نمازپڑھنےسے بہتر ہے۔ البتہ کسی مسلمان کےلیےیہ جائزنہیں کہ وہ محض شک اورگمان کی بنیادپرکسی کےبارےمیں زناکاخیال رکھےیااس پرکوئی تہمت لگائے۔ شریعت میں اس پربہت سخت وعیدیں آئی ہیں، لہذااس سےبچنا ضروری ہے۔

حوالہ جات

في الهداية: "ويكره تقديم العبد" لأنه لا يتفرغ للتعلم "والأعرابي " لأن الغالب فيهم الجهل "والفاسق" لأنه لا يهتم لأمر دينه "والأعمى" لأنه لا يتوقى النجاسة "وولد الزنا" لأنه ليس له أب يثقفه فيغلب عليه الجهل ولأن في تقديم هؤلاء تنفير الجماعة فيكره " وإن تقدموا جاز " لقوله عليه الصلاة والسلام " صلوا خلف كل بر وفاجر ".(1/ 57)

وفي رد المحتار: وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا، ولا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال، بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم؛ لما ذكرنا. (1/ 560)

قال الله تعالى: ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱجۡتَنِبُواْ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعۡضَ ٱلظَّنِّ إِثۡمٞۖ وَلَا تَجَسَّسُواْ وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ ﵞ [الحجرات: 12]

 راز محمد اختر             
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
  25 شعبان المعظم1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رازمحمدولداخترمحمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب