| 87855 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنا مال اور جائداد تقسیم کی، ان کی تین بیویاں تھیں، پہلی بیوی سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، دوسری بیوی سے دو بیٹے تھے، تیسری بیوی سے دو بیٹیاں تھیں۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ،ان تینوں کا انتقال والد کی زندگی میں ہوگیا تھا ۔ والد صاحب نے جائداد کے پانچ حصے کیے ،تین حصے تین بیٹوں کو دیے ،اور ایک حصہ جس بیٹے کا انتقال ہوا تھا اس کے بیٹے ،یعنی پوتے کو دیا اور پانچواں حصہ خود لیا۔والد صاحب کا کہنا تھا کہ دو بڑی بیٹیوں کو اس تقسیم میں حصہ دوں گا، لیکن اس تقسیم میں ان بیٹیوں کوحصہ نہیں ملا، انہوں نے خود نہیں لیا یا اختلافات کی وجہ سے نہیں لیا ،پتہ نہیں۔ ان بیٹیوں نے اس وقت اعتراض نہیں کیا۔ والد صاحب نے پانچواں حصہ خود رکھ لیا ،والد صاحب کے ساری اولادشادی شدہ اور الگ تھی، دو نابالغ بیٹیاں اور ان کی والدہ ،والد صاحب کے ساتھ تھی، والد صاحب نے اپنا حصہ ان دو نابالغ بیٹیوں اور ان کی والدہ کو دےدیا،ثبوت کے لیے خط(ہبہ نامہ) لکھ دیا، خط گاؤں کی مسجد لے کر گئے ،اس پر گاؤں کے مفتی صاحب کے اور ایک خاندان کے فرد کے دستخط ہیں ،اور لوگوں کے سامنے بھی اقرار کیا۔ اِس حصے میں تین زمینیں اور پشاورحیات آباد میں ایک گھر تھا، والد صاحب خط لکھنے اور لوگوں کے سامنے اقرار کرنے کے بعد خود آمدنی وصول کرتے تھے ۔ان زمینوں اور گھر کی آمدنی سے اپنا اور دو نابالغ بیٹیوں اور ان کی والدہ کا خرچ چلا رہے تھے ،بیٹیوں کے بالغ ہونے سے پہلے ہی والد صاحب انتقال کر گئے ،والد کے انتقال کے بعد بچیوں کی والدہ بیس بائیس سال تک آمدنی وصول کرتی رہی اور بچیوں پر خرچ کرتی رہی۔ پشاور میں جو گھر ہے وہ کچھ سال پہلے ایک بھائی نے یہ کہہ کر بیچ دیا کہ یہ میں ان دو چھوٹی بہنوں اور ان کی والدہ کے لیے بیچ رہا ہوں ۔بیچنے کے بعد رقم کی آمدنی ان دو بہنوں اور ان کی والدہ کو دیتا رہا ۔ اب زمین بیچنے کی بات ہے تو بھائیوں کا کہنا ہے کہ والد صاحب نےجو حصہ دو نابالغ بیٹیوں اور ان کی والدہ کو ہبہ کیا ،یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا ،والد نے جو خط (ہبہ نامہ)لکھا ہے اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں،والد نے یہ سارا حصہ بچیوں کی والدہ کے حوالے کیوں نہیں کیا؟ یہ ہمارے والد صاحب کی میراث ہے ،اور اس میں ترکہ جاری ہوگا۔ بھائیوں کا کہنا ہے کہ بیس بائیس سال تک بچیوں کی والدہ نے جو آمدنی وصول کی ہے، وہ ہم نے اپنی مرضی سے ان کے لئے چھوڑی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ والد صاحب نے جو دو نابالغ بیٹیوں کو ہبہ کیا تھا، یہ ہوگیا یا نہیں ؟اور ان کی والدہ کو جو ہبہ کیا تھا ،یہ ہوا ہے یا نہیں؟ والد صاحب نے اپنا حصہ مشترکہ طور ان تینوں کو ہبہ کیا تھا۔
تنقیح از سائل:والد صاحب نے گھر کا قبضہ والدہ کو نہیں دیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں فراہم کی گئی معلومات حقیقت پر مبنی ہونے کی صورت میں نابالغ بیٹیوں کے حق میں یہ ہبہ مکمل ہوگیا ہے، یہ ترکہ میں شمار نہیں ہوگا،البتہ والدہ کے حق میں ہبہ مکمل نہیں ہے، یہ میت کے ترکے میں شمار ہوگا، جس میں تمام شرعی ورثہ کا حق ہے، تاہم اگر دیگر ورثہ بالغ ہوں اور اپنی دلی رضامندی سے والد صاحب کی منشا کے مطابق والدہ کوہبہ کردہ زمینیں دے دیں ،تو یہ پسندیدہ عمل ہوگا۔
حوالہ جات
لا تجوز الهبة إلا محوزة مقسومة مقبوضة يستوي فيها الأجنبي والولد إذا كان بالغاً، وقوله لا يجوز: لا يتم الحكم، فالجواز ثابت قبل القبض باتفاق الصحابة، والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة .
)البحر الرائق:(238/6
وهبة الأب لطفله تتم بالعقد ولا فرق في ذلك بينما إذا كان في يده أو في يد مودعه بخلاف ما إذا كان في يد الغاصب أو في يد المرتهن أو في يد المستأجر حيث لا تجوز الهبة لعدم قبضه، وكذا لو وهبته أمه وهو في يدها والأب ميت وليس له وصي، وكذا كل من يعوله.(الفتاوى الهندية:(391/4
(وهبة من له ولاية على الطفل في الجملة، وهو كل من يعوله ،فدخل الأخ والعم عند عدم الأب لو في عيالهم تتم بالعقد ،لو الموهوب معلوما وكان في يده أو يد مودعه، لأن قبض الولي ينوب عنه، والأصل أن كل عقد يتولاه الواحد يكتفى فيه بالإيجاب) قوله: على الطفل. فلو بالغا يشترط قبضه، ولو في عياله ...قوله: معلوما.قال محمد رحمه الله : كل شيء وهبه لابنه الصغير، وأشهد عليه، وذلك الشيء معلوم في نفسه فهو جائز، والقصد أن يعلم ما وهبه له، والإشهاد ليس بشرط لازم لأن الهبة تتم بالإعلام.
(الدر المختار مع رد المحتار694/5:)
انس رشید ولد ہارون رشید
دار الإفتاء جامعۃ الرشید کراچی
4/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس رشید ولد ہارون رشید | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


