03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بائنانس پرا سپاٹ ٹریڈنگ کا حکم
88262خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بائنانس پر اسپاٹ ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی معتبر اور قابل اعتماد ایکسچینج کے ذریعے کرپٹوٹریڈنگ کی مختلف صورتیں ہیں ،جن کا حکم تفصیلاً درج ذیل ہے:

۱۔فیوچر ٹریڈنگ: اس میں عملاً لین دین نہیں ہوتا بلکہ قیمت کے حساب سے نفع نقصان برابر کیا جاتا ہے۔ یہ شرعاً قمار  (جوا) ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور اس کی آمدن حرام ہے۔

۲۔آپشن ٹریڈنگ: اس میں کسی شخص کو خریدنے یا بیچنے کا اختیار بیچا جاتا ہے اور اس پر پریمیم لیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اختیار بیچے جانے والی چیز نہیں ہے اس لیے یہ بھی ناجائز ہے اور اس کی آمدن بھی حرام ہے۔

۳۔مارجن ٹریڈنگ: اس میں بائنانس سے سود پر قرض لے کر اس سے ٹریڈ کی جاتی ہےاورسود کا لین دین شرعاً حرام ہے۔ البتہ اس سے ہونے والے نفع کا حکم اسپاٹ ٹریڈنگ والا ہے جو آگے مذکور ہے۔

۴۔اسپاٹ ٹریڈنگ: اس میں موجودہ قیمت کے مطابق کوائنز اور ٹوکنز کا لین دین ہوتا ہے۔ اس میں کوائن اور ٹوکن  کے پیچھے  کبھی ناجائز پراجیکٹ ہوتا ہے اور کبھی ان کے پیچھے ناجائز پراجیکٹ  نہیں ہوتا ۔اس تفصیل  کے مطابق حکم درج ذیل ہے :

ان کوائنزیا  ٹوکنز کی ٹریڈنگ جن کے پیچھے ناجائز(مثلاً سودی قرض یا ہیجنگ وغیرہ کا) پراجیکٹ  ہو۔ چونکہ ان کا انتہائی استعمال بھی ان کے پراجیکٹ میں ہوتا ہے اس لیے ان کی ٹریڈنگ اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز نہیں ہے۔

وہ کوائنز اور ٹوکنز جن کے پیچھے کوئی ناجائز پراجیکٹ نہ ہو ،اس میں اگر حکومت  کی طرف سے ان کی ٹریڈ ممنوع ہو،توعوام کی مصلحت پر مبنی حکومتی قانون پر عمل کرنا شرعاً لازم ہونے کی بناء اس کی ٹریڈ کا ناجائز ہونا واضح ہے ۔اور اگر حکومت کی طرف سے ان کی ٹریڈ کی ممانعت نہیں ہے ، مگر حکومت  ان کی پشت پر بھی نہیں ہوتی ، تو ایسی صورت میں بھی بہت سے معاصر علماء کی رائے کے مطابق ،ان کی پشت پرحکومت کے نہ ہونےیا ان  کے ثمن نہ ہونے اور سٹے بازی میں استعمال ہونے کی وجوہات کی بنا پر، ان کی ٹریڈناجائز ہے،لہٰذا ایسی کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کا بھی مشورہ نہیں دیا جا سکتا ۔ البتہ جن ممالک میں یہ لیگل ٹینڈر کے طور پر تسلیم شدہ ہو اور  حکومت اس کی اجازت دیتی ہو  اور اس کی پشت پناہی کرتی ہو (ذمہ داری وغیرہ لے کر)، تو وہاں کے قوانین اور حالات کے مطابق  ان کے ثمن عرفی ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا (ماخوذ  از تبویب: 86789 )

حوالہ جات

مسند أحمد (30/ 320 ط الرسالة):

حدثنا يحيى بن سعيد، عن مجالد، حدثنا عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأومأ بإصبعيه إلى أذنيه: " ‌إن ‌الحلال ‌بين والحرام بين، وإن بين الحلال والحرام مشبهات ، لا يدري كثير من الناس أمن الحلال هي، أم من الحرام، فمن تركها، استبرأ لدينه وعرضه، ومن واقعها، يوشك أن يواقع الحرام، فمن رعى إلى جنب حمى، يوشك أن يرتع فيه، ولكل ملك حمى، وإن حمى الله محارمه.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

یکم/صفر المظفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب