03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح  کا حکم
88265نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

صغر سنی میں نکاح کا کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث سے تحقیقا ثابت کریں کہ  ملک پاکستان کا اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح پر پابندی لگانا شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟ اگر شریعت کے مطابق نہیں ہے تو اس پر عمل کرنا اور عمل نہ کرنے پر حکومت کی طرف سے جرمانہ عائد کرکے سزا دینا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور اصول چند اہم نکات ذہن نشین کرلیں:

۱۔شریعتِ مطہرہ میں نکاح کے لیے کوئی مخصوص عمر متعین نہیں کی گئی ہے۔

۲۔بلوغت سے پہلے والدین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے نابالغ بچوں کا نکاح کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اس میں بچوں کا مفاد ہو۔

۳۔بلوغت کے بعد لڑکا یا لڑکی اپنے ولی کی رضا مندی سے خود بھی نکاح کر سکتے ہیں۔

۴۔قرآن و سنت میں کم سن بچوں کے نکاح کی اجازت واضح طور پر موجود ہے۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ سال کی عمر میں کیا تھا، اور نو سال کی عمر میں رخصتی عمل میں آئی۔(بخاری شریف)

جہاں شریعت نے  اس بات کی اجازت دی ہے کہ فائدہ اور مصلحت کو پیش نظر رکھ کر اپنے بچوں کا نکاح کراؤ ، وہاں شریعت نے اس بات کا بھی پابند بنایا ہے کہ یہ نکاح محض عصبیت یا قبائلی رواج کی وجہ سے نہ ہو ، ہر وہ نکاح جو بچے کے حق میں نقصان دہ ہو، شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی ،یہ اجازت بغیر شرط کے نہیں، بلکہ بچے کی فلاح و تحفظ  کے ساتھ مشروط ہے۔ مثال کے طور پر :اگر کوئی یتیم بچی ہو، جس کے والدین وفات پا چکے ہوں، اور اس کے نان و نفقہ، تعلیم و تربیت اور پردہ و تحفظ کا کوئی مناسب انتظام نہ ہو، تو ایسے حالات میں اس کا ولی یا مربی اس کے لیے کسی مناسب اور دین دار لڑکے کے ساتھ جو بچی کا کفو بھی ہو ، نکاح کا انتظام کر سکتا ہے۔ اس کا مقصد صرف شادی کروانا نہیں ہوتا، بلکہ بچی کو محفوظ ماحول فراہم کرنا،پردہ، عفت اور عزت کی حفاظت کو یقینی بنانا،تعلیم و تعلم کو جاری رکھنا،نان و نفقہ کا بہتر انتظام مہیا کرنا،وغیرہ جیسے  مقاصد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل عبارت اس کی صریح وضاحت کرتی ہے کہ بچوں کا صغر سنی میں نکاح مصلحت اور فائدہ پر مبنی ہے۔

الهداية في شرح بداية المبتدي: (1/ 193)

بل هو موافق للقياس لأن النكاح يتضمن المصالح ولا تتوفر إلا بين المتكافئين عادة ولا يتفق الكفء في كل زمان فأثبتنا الولاية في حالة الصغر إحرازا للكفء۔

شریعت نے کم سنی میں اپنے بچوں کی شادی کی اجازت دی ہے ، لیکن بہتر طریقہ یہی ہے کہ بچوں کا نکاح  بلوغت کے بعد کرایا جائے۔کم سنی میں بچوں کا نکاح کرانے کی اگرچہ اجازت ہے، لیکن بسا اوقات اس کے بہت سے مفاسد بھی سامنے آتے ہیں، جس کی وجہ سے بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نکاح بلوغت کے بعد کرایا جائے۔ چند مفاسد درج ذیل ہیں:

۱۔صغر سنی میں بچوں کی عقل  پختہ نہیں ہوتی ،لہذا   وہ نکاح کی اہم ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نبھانے کے قابل نہیں ہوتے۔ نکاح صرف ایک رسم یا معاہدہ نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ اور عملی ذمہ داری ہے، جس میں دونوں فریق کو شعور، سمجھ بوجھ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کم سنی میں یہ صلاحیتیں عموماً نہیں ہوتیں، اس لیے ایسا نکاح اکثر مسائل پیدا کرتا ہے۔

۲۔ کم سنی میں نکاح کی بنیاد اکثر طور پر قبائلی یا خاندانی  عصبیت پر ہوتی ہے،بعد میں لڑکے لڑکی میں مناسبت نہ ہونے کی صورت میں نباہ مشکل نظر آتا  ہے، مگر والدین اپنے فیصلہ سے پیچھے ہٹنے میں اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں اور ہر صورت میں وہیں رخصت کرنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے بسا اوقات متعدد مسائل جنم لیتے ہیں۔

۳۔ مشاہدہ یہ بھی ہے کہ کم عمری میں نکاح کے بعد وقت کے ساتھ بچوں کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ بلوغت کے بعد کبھی لڑکی نکاح سے انکار کر دیتی ہے، یا لڑکا کسی اور تعلق کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور دو خاندانوں میں قطع تعلق کی نوبت آتی ہے۔

۴۔صغر سنی میں نکاح کے بعد اکثر بچے خاص طور پر بچیاں جسمانی طور پر ازدواجی تعلقات کے قابل نہیں ہوتیں، کیونکہ ان میں ابھی تولیدی اعضاء مکمل طور پر نشوونما نہیں  پاچکے ہوتے۔ اگر ایسے حالات میں ازدواجی تعلق قائم کیا جائے تو یہ نہ صرف ظلم ہے بلکہ اس سے بچی کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کم عمری میں حمل کی صورت میں پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں، جیسے خون کی کمی، قبل از وقت زچگی، بچوں کی اموات، اور بعض اوقات ماں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے جہاں نکاح کی اجازت دی ہے، وہیں "ضرر" یعنی نقصان سے بچنے کو ضروری قرار دیا ہے۔فقہاء کرام نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ بچی کے ساتھ ازدواجی تعلقات شوہر تب قائم کرے گا ، جب وہ اس قابل ہوجائے۔

چنانچہ متعدد فتاوی جات میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ صغر سنی میں نکاح کی اجازت ہے، لیکن بہتر طریقہ یہی ہے کہ بلوغت کے بعد ہی نکاح کرایا جائے۔چنانچہ متعدد فتاوی جات میں یہی حکم لکھا گیا ہے:

شادی کے لئے کوئی عمر مقرر نہیں، ہر عمر میں نکاح کرنا جائز ہے، مگر بہتر یہ ہےکہ بلوغ کے بعد نکاح کیا جائے۔(فتاوی عثمانی، جلد دوم،ص:۳۰۸ )

لڑکے اور لڑکی کا نکاح  بالغ ہو جانے کے بعد کرایا جائے ،بچپن میں نکاح شرعا منعقد تو ہو جاتا ہے، لیکن بلوغ کو پہنچ جانے کے بعد حالات کے بدل جانے یا لڑکے  کےشب و روز بگڑ جانے کی وجہ سے بہت سے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں جن کا تدارک مشکل ہو جاتا ہے۔(نجم الفتاوی، کتاب النکاح، ص:۹۵ )

خلاصہ: شریعت  نےکم سنی میں بچوں کے نکاح کرانے کی اجازت  دی ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ بلوغت کے بعد ہی نکاح کرایا جائے۔

قانون کا قابل اعتراض پہلو(اول):

3. Registration of child marriages:

(1) No Nikah registrar shall register a marriage where one or both the contracting parties are below the age of eighteen years.

(2) The Nikah registrar or any person solemnizing Nikah must ensure that the contracting parties possess valid Computerized National Identity Cards (CNICS) duly issued by the National Database and Registration Authority (NADRA), clearly stating their respective date of births.

 ترجمہ: بچوں کی شادیوں کی رجسٹریشن:

1۔ کوئی بھی نکاح رجسٹرار ایسے نکاح کی رجسٹریشن نہیں کرے گا جس میں ایک یا دونوں فریقوں کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہو۔

2۔ نکاح رجسٹرار یا نکاح پڑھانے والا کوئی بھی شخص اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دونوں فریقین کے پاس قومی ڈیٹابیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی طرف سے جاری کردہ درست کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNICs) موجود ہوں، جن پر ان کی تاریخِ پیدائش واضح طور پر درج ہو۔

تبصرہ: جہاں صغر سنی میں نکاح کرانا مفاسد سے خالی نہیں وہیں بعد از بلوغت نکاح پر پابندی لگانا بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔نکاح کے لیے 18 سال کی عمر کی شرط عقلی طور پر بھی محلِ نظر ہے، کیونکہ بلوغت کے بعد انسان میں جنسی، جذباتی اور نفسیاتی تبدیلیاں قدرتی طور پر پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف عمر کی حد سے وابستہ نہیں ہوتیں، بلکہ ہر فرد کے جسمانی ڈھانچے، جذبات، ضروریات، ماحول اور فطری طبیعت کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا نکاح کا اختیار محض عمر کی قید کی بنیاد پر سلب کرنا درست نہیں۔لہذا اس بات کا فیصلہ اگر والدین اور بچے کی مرضی پر چھوڑا جائے تو یہ بہتر رہے گا ،تاکہ وہ فطری زندگی گزارنے کے لئے  خود ہی بہترین فیصلے کا انتخاب کریں۔

یہاں ہم مختلف ممالک میں شادی کے لیے مقرر کردہ قانونی عمر کے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ 18 سال کی حد مقرر کرنے پر تمام ممالک کا اتفاق نہیں، بلکہ بعض اوقات ایک ہی ملک کی مختلف ریاستیں بھی اس حد پر متفق نہیں ہوتیں۔

یورپی ممالک میں شادی کے لیے قانونی عمر:

وہ ممالک جہاں 18 سال سے کم عمر میں شادی والدین یا عدالت کی اجازت سے ممکن ہے:

اسکاٹ لینڈ: شادی کی قانونی عمر 16 سال ہے اور یہی بلوغت کی عمر بھی مانی جاتی ہے۔

آسٹریا، بیلجیئم، بلغاریہ، فرانس، لکسمبرگ، اسپین، رومانیہ: ان ممالک میں 18 سال سے کم عمر میں شادی کی اجازت موجود ہے بشرطِ یہ کہ والدین اور عدالت یا انتظامیہ کی اجازت حاصل ہو۔ ان ممالک کے قوانین میں کم از کم عمر کی کوئی واضح حد مقرر نہیں کی گئی، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 18 سال سے کم عمر میں شادی پر مکمل پابندی نہیں ہے۔

ایسٹونیا: یہاں شادی کی کم از کم عمر 15 سال رکھی گئی ہے۔

لیتھوانیا: عام طور پر شادی کی اجازت 16 سال میں ہے، لیکن اگر لڑکی حاملہ ہو تو عدالت اس سے بھی کم عمر میں نکاح کی اجازت دے سکتی ہے۔

کروشیا: 16 سال کی عمر میں شادی تب ممکن ہے جب عدالت بچے کو جسمانی و ذہنی طور پر بالغ اور شادی کے لیے موزوں قرار دے۔

پولینڈ: لڑکی کو 16 سال میں عدالت سے اجازت مل سکتی ہے، مگر لڑکوں کے لیے یہ استثناء موجود نہیں۔

قبرص، لٹویا، مالٹا، یونائیٹڈ کنگڈم (انگلینڈ، ویلز، شمالی آئرلینڈ):ان ممالک میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی صرف والدین کی رضامندی سے ممکن ہے۔

چیک ریپبلک، فن لینڈ، یونان، آئرلینڈ، اٹلی، سلوواکیہ: صرف عدالت کی اجازت درکار ہوتی ہے، والدین کی اجازت ضروری نہیں۔

یورپی ممالک میں صرف چار ملکوں (نیدرلینڈ ، ڈنمارک ،سویڈن اور جرمنی )  میں شادی کے لئے 18 سال کی عمر قانونی طور پر مقرر کی گئی ہے۔(European union agency for fundamental right )

امریکہ میں چائلڈ میرج (Child Marriage) کا قانون:

امریکہ میں نکاح کے قوانین ریاستی سطح پر مقرر کیے جاتے ہیں، اس لیے ہر ریاست کا قانون مختلف ہے۔ صرف 13 ریاستیں ایسی ہیں جہاں 18 سال سے کم عمر کی شادی بالکل ممنوع ہے (کوئی استثناء نہیں) ۔ 37ریاستوں میں18 سال سے کم عمر  کی شادی اب بھی قانونی ہے۔

4 ریاستوں (کیلی فورنیا، اوکلاہوما، نیو میکسیکو، مسیسیپی) میں شادی کے لیے کوئی کم از کم عمر مقرر نہیں، والدین یا عدالت کی اجازت سے کوئی بھی عمر قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔

چائنہ ،جاپان وغیرہ میں شادی کے لئے عمر کا قانون:

چائنہ میں شادی کے لئے قانونی عمر مرد کے لئے ۲۲ سال مقرر ہے ، جبکہ عورت کی عمر ۲۰ سال ہونی چاہئے۔

جاپان میں والدین کی رضامندی کے ساتھ اگر شادی ہو تو اس کے لئے مرد اور عورت کے لئے مقر رہ عمر کی حد18 اور 16سال ہے۔جبکہ قانونی عمر 18 سال دونوں کے لئے مقرر کی گئی ہے۔

https://data.un.org/documentdata.aspx?id=336 اس لنک پر تمام ممالک میں قانونی طور پر مقرر کردہ شادی کی عمریں، نیز والدین کی رضامندی سے ہونے والی شادی کے لیے مقررہ عمریں بآسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔

اعداد وشمار پر تبصرہ:

کیا شادی کے لیے مقرر کردہ عمر کا قانون تمام ممالک میں یکساں ہے؟

اس سوال کا واضح اور دوٹوک جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں شادی کے لیے قانونی عمر کا تعین یکساں نہیں ہے۔ بلکہ ہر ملک اور قوم نے اپنے معاشرتی حالات، تمدنی روایات، مذہبی عقائد، جسمانی و نفسیاتی معیار، تعلیمی رجحانات اور فطری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شادی کے لیے مختلف عمریں متعین کی ہیں۔ کہیں یہ عمر 16 سال ہے، کہیں 18، اور کہیں کسی خاص اجازت یا شرط کے ساتھ اس سے بھی کم عمر میں شادی ممکن ہے۔

 عالمی سطح پر قانونی تنوع اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ نکاح یا ازدواجی تعلق ایک ایسا فطری تقاضا ہے جس کو محض قانون کے ایک معیار   کے تحت محدود کرنا نہ تو عقلاً درست ہے اور نہ ہی عملی طور پر ممکن۔ اگر یہ محض عقل یا سائنسی بنیادوں پر ایک عمر طے کرنے کا معاملہ ہوتا تو دنیا بھر کے تمام ممالک اس پر متفق ہوتے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اسلام نے شادی کو ایک فطری، دینی اور معاشرتی ضرورت قرار دیا ہے۔ اسلام کا اصول یہ نہیں کہ شادی کے لیے کوئی مخصوص عمر  (جیسے 18 سال) لازم قرار دیا جائے، بلکہ اس معاملہ کو بلوغت سے پہلے والدین کو سپرد کردیا کہ وہ بچوں کی ضرورت اور مصلحت کو پیش نظر رکھ کر اس بات کا خود فیصلہ کریں کہ  کس عمر میں اپنے بچوں کا نکاح کرانا بہتر ہے۔ اس کے علاوہ بلوغت کے بعد لڑکےلڑکی کو اس بات کا اختیار دیا کہ والدین کی رضامندی کے ساتھ دونوں موزوں جگہ نکاح   کرسکتے ہیں ۔

دوسرا قابل اعتراض پہلو:

Punishment of Child Abuse:

(1) Any form of co-habitation, before attaining the age of eighteen years, with or without consent, resulting from a child marriage shall be considered child abuse under this Act.

(2) Any person who induces, forces, persuades, entices or coerces any child bride or child groom to engage in any such activity prohibited by sub-section (1) or commits an act of child abuse shall be punished with imprisonment for a term which shall not be less than five years and may extend up to seven years and with fine which shall not be less than one million rupees, or both.

 ترجمہ:شق 5۔ بچوں کے ساتھ زیادتی (child Abuse)کی سزا:

(1) اگر کوئی لڑکا یا لڑکی اٹھارہ (18) سال کی عمر سے پہلے شادی کے بعد ساتھ رہنے (رہائش یا ازدواجی تعلقات) میں شامل ہوتا ہے، چاہے وہ رضامندی سے ہو یا بغیر رضامندی کے، تو یہ عمل اس قانون کے تحت بچوں کے ساتھ زیادتی (چائلڈ ابیوز) شمار ہوگا۔

(2) اگر کوئی شخص کسی کم عمر دلہن یا دولہے کو زبردستی، لالچ دے کر، بہلا پھسلا کر یا کسی بھی طریقے سے ایسے عمل پر مجبور کرتا ہے جو کہ اوپر (شق 1) میں ممنوع ہے، یا خود کوئی ایسا عمل کرتا ہے جو بچوں کے ساتھ زیادتی میں شمار ہو، تو ایسے شخص کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا دی جائے گی، اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

تبصرہ:قانون کی شق نمبر  5  کی ذیلی شق نمبر1 میں جو یہ لکھا گیا ہے کہ کہ" اگر کوئی  18 سال سے کم عمر بچی کے ساتھ شادی  کرے اور شوہر اپنی بیوی کے ساتھ  ازدواجی تعلق  قائم کرے تو یہ (جنسی )زیادتی شمار ہوگی" محلِ نظر  بلکہ صریحاََ غلط ہے ، کیونکہ ایک بار جب نکاح ہوگیا تو شریعت کی رو سے ازدواجی تعلق حلال ہے، خاص کر بلوغت کے بعد  جب دونوں کو  نکاح کے بعد   ازدواجی تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہو، جو کہ بلوغت کی عمر ، علاقہ، ماحول اور دوسرے عوامل سے مختلف ہوسکتی ہے۔

ہر برائی کو صرف قانون اور سزا کے ذریعہ روکنے کا اصول صحیح نہیں ، اور تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ برائی کو روکنے کے لئے کافی بھی نہیں۔بہت سی برائیاں جو انسانی معاشرہ میں پیدا ہوتی ہیں، ان کا صحیح علاج بجز  ذہنی اصلاح اور اخلاقی تربیت کے اور کچھ نہیں ہوتا ،اس معاملہ میں بھی اگر نشر واشاعت کے تمام وسائل سے عوام کو ان مفاسد سے آگاہ کیا جائے ، اور جن برادریوں میں اس کا زیادہ رواج ہے، ان کو اجتماعی طور سے سمجھایا جائے ، تو کوئی بعید نہیں کہ وہ اس غلطی سے باز آجائیں، لیکن قانونی طور پر اس کو قابل سزا جرم قرار دینے میں قانون شریعت سے تصادم ہوتا ہے، اس سے اجتناب کیا جائے۔

شریعت اسلام نے انہی مفاسد کی اصلاح کے لئے یہ قانون پہلے سے بنایا ہوا ہے کہ اگر نابالغ لڑکے یا لڑکی کے اولیاء صغرسنی میں ان کا نکاح کر دیں تو لڑ کا لڑکی بالغ ہوتے ہی فورا اسلامی عدالت کے ذریعہ نکاح  فسخ کر اسکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ یہ نکاح نا بالغ کے باپ یا دادا کے علاو و کسی اور ولی نے کیا ہو اور باپ دادا کے کئے ہوئے نکاح میں بھی اگر ان کی بدنیتی یا خود غرضی کا ثبوت مل جائے تو ان کے کئے ہوئے نکاح کو بھی فسخ کیا جاسکتا ہے۔ (جواہر الفقہ، کتاب النکاح،ص:۲۸۳ )

اصلاح کا درست راستہ: شعور و آگاہی

جہاں کم سنی کی شادی سے پیدا ہونے والے مسائل ایک حقیقت ہیں، وہیں اس کا حل صرف قانونی پابندی نہیں، بلکہ شعور، رہنمائی اور خاندانی تربیت ہے۔ نکاح جیسے اہم اور پُرمعنی رشتے کو زبردستی عمر کی قید میں جکڑ دینا، خاص طور پر جب لڑکا یا لڑکی شرعی طور پر بالغ ہو چکے ہوں، نہ صرف شریعت سے ٹکراؤ ہے، بلکہ ان کی فطری، جذباتی اور نفسیاتی ضروریات کو بھی نظر انداز کرنا ہے۔ اس کے بجائے معاشرے میں شادی کی ذمہ داریوں، نکاح کی سنجیدگی، اور گھریلو زندگی کے تقاضوں سے متعلق آگاہی ، والدین کی تربیت، اور نوجوانوں کی کونسلنگ کو فروغ دیا جائے۔ اس سے کم سنی میں بے سوچے سمجھے نکاح کی روک تھام بھی ہوگی اور بالغ ہونے کے بعد نوجوان خود بہتر فیصلے کرنے کے قابل بھی بنیں گے۔ اصلاح کا حقیقی راستہ زبردستی کا قانون نہیں بلکہ شعور، فہم اور ہمدردی پر مبنی تعلیم و تربیت ہے۔

حوالہ جات

التفسير المنير - الزحيلي (28/ 278):

عدة المرأة اليائس التي انقطع دمها بسبب الكبر وتقدم السن، وعدة الفتاة الصغيرة التي لم تر الدم هي ثلاثة أشهر،

] وَاللاّئِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسائِكُمْ إِنِ اِرْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللاّئِي لَمْ يَحِضْنَ [.

تفسير ابن كثير - ط ابن الجوزي (7/ 303):

يقول تعالى مبينا لعدة الآيسة وهي التي قد انقطع عنها المحيض لكبرها إنها ثلاثة أشهر عوضا عن الثلاثة قروء في حق من تحيض كما دلت على ذلك آية البقرة كذا الصغار اللائي لم يبلغن سن الحيض؛ أي: عدتهن كعدة الآيسة ثلاثة أشهر ولهذا قال تعالى: {واللائي لم يحضن}.

صحيح البخاري (3/ 1414):

عن عائشة رضي الله عنها قالت:تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم وأنا بنت ست سنين، فقدمنا المدينة، فنزلنا في بني الحارث بن خزرج، فوعكت فتمزق شعري فوفى جميمة، فأتتني أمي أم رومان، وإني لفي أرجوحة، ومعي صواحب لي، فصرخت بي فأتيتها، لا أدري ما تريد بي فأخذت بيدي حتى أوقفتني على باب الدار، وإني لأنهج حتى سكن بعض نفسي، ثم أخذت شيئا من ماء فمسحت به وجهي ورأسي، ثم أدخلتني الدار، فإذا نسوة من الأنصار في البيت، فقلن: على الخير والبركة، وعلى خير طائر، فأسلمتني إليهن، فأصلحن من شأني، فلم يرعني إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى، فأسلمتني إليه، وأنا يومئذ بنت تسع سنين.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 193):

ويجوز نكاح الصغير والصغيرة إذا زوجهما الولي بكرا كانت الصغيرة أو ثيبا والولي هو العصبة ومالك رحمه الله يخالفنا في غير الأب والشافعي رحمه الله في غير الأب والجد وفي الثيب الصغيرة أيضا وجه قول مالك إن الولاية على الحرة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا لانعدام الشهوة إلا أن ولاية الأب ثبتت نصا بخلاف القياس والجد ليس في معناه فلا يلحق به قلنا لا بل هو موافق للقياس لأن النكاح يتضمن المصالح ولا تتوفر إلا بين المتكافئين عادة ولا يتفق الكفء في كل زمان فأثبتنا الولاية في حالة الصغر إحرازا للكفء.

النهاية في شرح الهداية - السغناقي (7/ 60 بترقيم الشاملة آليا):

وحجتنا قوله تعالى: {واللائي لم يحضن} بين الله تعالى عدة الصغيرة وسبب العدة شرعا هو النكاح فذلك دليل [قصور] نكاح الصغيرة.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (3/ 276):

والآثار في ذلك وجوازه شهيرة عن عمر وعلي وابن مسعود وابن عمر وأبي هريرة. والمعنى أن الحاجة إلى الكفء ثابتة؛ لأن مقاصد النكاح إنما تتم معه، وإنما يظفر به في وقت دون وقت، والولاية لعلة الحاجة فيجب إثباتها إحرازا لهذهالمصلحةمع أن أصل القرابة داعية إلى الشفقة، غير أن في هذه القرابة قصورا أظهرناه في إثبات الخيار لها إذا بلغت، وإذا قام دليل الجواز وجب كون المراد باليتيمة في الحديث اليتيمة البالغة مجازا باعتبار ما كان؛ ألا ترى أنه صلى الله عليه وسلم غيا المنع بالاستئمار «وإنما تستأمر البالغة» وحديث قدامة تأويله أنه خيرها صلى الله عليه وسلم فاختارت الفسخ، ألا ترى إلى ما روي عن ابن عمر أنه قال: والله لقد انتزعت مني بعد أن ملكتها.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 204):

وقد صرحوا عندنا بأن الزوجة إذا كانت صغيرة لا ‌تطيق ‌الوطء لا تسلم إلى الزوج حتى تطيقه. والصحيح أنه غير مقدر بالسن بل يفوض إلى القاضي بالنظر إليها من سمن أو هزال. وقدمنا عن التتارخانية أن البالغة إذا كانت لا تحتمل لا يؤمر بدفعها إلى الزوج أيضا.

المحيط البرهاني (3/ 48):

ومن المشايخ من قال: ليس للزوج أن يدخل بها ما لم تبلغ، وأكثر المشايخ على أنه ‌لا ‌عبرة ‌للسن ‌في ‌هذا ‌الباب، وإنما العبرة للطاقة إن كانت صحة سمينة تطيق الرجال ولا يخاف عليها المرض من ذلك؛ كان للزوج أن يدخل بها وإن لم تبلغ تسع سنين. فإن كانت نحيفة مهزولة لا تطيق الجماع ويُخاف عليها المرض لا يحل للزوج أن يدخل بها، وإن كبر سنها وهو الصحيح.

الموسوعة الفقهية الكويتية (30/ 123):

ذهب ‌الفقهاء ‌إلى ‌أن ‌من ‌موانع تسليم المرأة إلى زوجها المرض، والمقصود بالمرض هنا المرض الذي يمنع من الجماع، وحينئذ تمهل المرأة إلى زوال مرضها، وألحق الشافعية بالمريضة من بها هزال تتضرر بالوطء معه.

(European union agency for fundamental right)

https://www.scribd.com/document/864015312/National-Assembly-bill?utm_source=chatgpt.com

https://fra.europa.eu/en

https://www.girlsnotbrides.org/articles/new-federal-law-aims-to-accelerate-action-to-end-child-marriage-in-the-us

https://data.un.org/documentdata.aspx?id=336

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی

یکم/صفر المظفر 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب