| 87799 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
تین طلاق دینے کے بعد مقرر حق مہر کا کیا حکم ہے ؟ کیا شوہر پر مطلقہ بیوی کا مہر ادا کرنا لازم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر شوہر نے بیوی کے ساتھ نکاح کے بعد ازدواجی تعلق قائم کیا ہو ، یا ان دونوں کے درمیان خلوت صحیحہ ہوئی ہو(خلوت صحیحہ کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایسی جگہ میں تنہا جمع ہوں جہاں ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی حسی، شرعی یا طبعی مانع نہ ہو، اگرچہ ایسی تنہائی کے باوجود ازدواجی تعلق قائم نہ کیا ہو) توایسی صورت میں شوہر پر بیوی کا پورا مہر ادا کرنا لازم ہوجاتا ہے اور طلاق دینے کے بعد مہر بیوی کا ہوگا۔شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کا حق مہر ادا کرے، البتہ اگر بیوی دلی رضامندی سے پورا مہر یا کچھ حصہ معاف کردے تو اس کی ادائیگی شوہر کے ذمےسے ساقط ہوجائے گی ۔
اگر دونوں کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں اور نہ ہی خلوت صحیحہ پائی گئی ہو اور اس کے بعد شوہر نے بیوی کو طلاق دی تو اس پر مقرر کردہ مہر کا آدھا حصہ بیوی کو ادا کرنا لازم ہوگا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم [البقرة: 237] :
ﵟوَإِن طَلَّقۡتُمُوهُنَّ مِن قَبۡلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيضَةٗ فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ إِلَّآ أَن يَعۡفُونَ أَوۡ يَعۡفُوَاْ ٱلَّذِي بِيَدِهِۦ عُقۡدَةُ ٱلنِّكَاحِۚﵞ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 291):
الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، أما التأكد بالدخول فمتفق عليه، والوجه فيه أن المهر قد وجب بالعقد وصار دينا في ذمته، والدخول لا يسقطه؛ لأنه استيفاء المعقود عليه، واستيفاء المعقود عليه، يقرر البدل لا أن يسقطه كما في الإجارة؛ ولأن المهر يتأكد بتسليم المبدل من غير استيفائه لما نذكر فلأن يتأكد بالتسليم مع الاستيفاء أولى.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 200):
وإذا خلا الرجل بامرأته وليس هناك مانع من الوطء ثم طلقها فلها كمال المهر " وقال الشافعي رحمه الله لها نصف المهر لأن المعقود عليه إنما يصير مستوفى بالوطء فلا يتأكد المهر دونه.
ولنا أنها سلمت المبدل حيث رفعت الموانع وذلك وسعها فيتأكد حقها في البدل اعتبارا بالبيع " وإن كان أحدهما مريضا أو صائما في رمضان أو محرما بحج فرض أو نفل أو بعمرة أو كانت حائضا فليست الخلوة صحيحة " حتى لو طلقها كان لها نصف المهر لأن هذه الأشياء موانع.
أما المرض فالمراد منه ما يمنع الجماع أو يلحقه به ضرر وقيل مرضه لا يعري عن تكسر وفتور وهذا التفصيل في مرضها وصوم رمضان لما يلزمه من القضاء والكفارة والإحرام لما يلزمه من الدم وفساد النسك والقضاء والحيض مانع طبعا وشرعا " وإن كان أحدهما صائما تطوعا فلها المهر كله " لأنه يباح له الإفطار من غير عذر.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
29/ذی الحج /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


