| 87707 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
سات آدمیوں نے مل کر ایک گائے خرید لی۔ شرکا میں سے چھ آدمیوں نے آٹھ ہزار روپے مالک کو نقد ادا کئے ۔ ایک آدمی کے پاس نقد پیسے نہیں تھے ، وہ اپنے حصے کے پیسے مالک کو پانچ ماہ بعد ادا کرے گا ۔
کیا ایسا کرنا درست ہے اور ایسی قربانی کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہے اور اس کے پاس نقد رقم موجود نہیں ، تو اس کو چاہئے کہ اپنے سامان میں سے اس قدر (سونا ، چاندی یا ضرورت سے زائد کوئی )چیز بیچ دے ، جس سے قربانی کے پیسے پورے ہو سکے۔
لیکن اگر کوئی صاحب نصاب نہیں ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں۔ تاہم اگر وہ نفلی قربانی کرنا چاہتا ہے تو اس کی قربانی درست ہوجائے گی۔
صورت مسئولہ میں جو شریک قرض لے کر قربانی کررہا ہے اور مالک اس کو ادھار دینے پر راضی ہے تو ایسے شخص کی قربانی درست ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 312):
وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية (وسببها الوقت) وهو أيام النحر…(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 292):
ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
29/ذی القعده/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


