03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض لے کر قربانی کرنے کا حکم
87707قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

سات آدمیوں نے مل کر ایک گائے خرید لی۔ شرکا میں سے چھ آدمیوں نے  آٹھ ہزار  روپے مالک کو نقد ادا کئے ۔ ایک آدمی کے پاس نقد پیسے نہیں تھے ، وہ  اپنے حصے کے پیسے  مالک کو  پانچ ماہ بعد ادا کرے گا ۔

کیا ایسا کرنا درست ہے اور  ایسی قربانی کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید واضح ہو کہ اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہے اور اس کے پاس نقد رقم  موجود نہیں ، تو اس کو چاہئے کہ اپنے سامان میں سے اس قدر (سونا ، چاندی یا ضرورت سے زائد کوئی )چیز  بیچ دے ، جس سے قربانی کے پیسے پورے ہو سکے۔

لیکن اگر کوئی صاحب نصاب نہیں ہے  تو اس پر قربانی واجب نہیں۔ تاہم اگر وہ نفلی قربانی کرنا چاہتا ہے  تو اس کی قربانی درست ہوجائے گی۔

صورت مسئولہ میں جو شریک قرض لے کر قربانی کررہا ہے اور مالک اس کو ادھار  دینے پر راضی ہے تو ایسے شخص کی قربانی درست ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 312):

وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية (وسببها الوقت) وهو أيام النحر…(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 292):

ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب.

 محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

29/ذی القعده/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب