03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹیوب ویل پر شمسی پینل لگا کر شرکت کرنا
88309شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

ایک آدمی نے شمسی ٹیوب ویل بنایا اور اس میں اٹھارہ شمسی پینل لگائے اور دوسرے آدمی سے کہا کہ بارہ شمسی پینل آپ لگاؤ ، اس نے بارہ شمسی پینل لگائے۔ معاہدہ یہ ہوا  کہ پانچ دن میری پانی کی باری ہوگی اورمیں اس پانی کوبیچ  کر نفع حاصل کروں گا اور دو دن  پارٹنر کی باری  ہوگی وہ پانی بیچ  کر نفع کمائے گا اور نقصان دونوں برداشت کریں گے ۔مذکورہ صورت جائز ہے یا نہیں ؟

تنقیح :  سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں شریک عامل ہیں اور   ٹیوب ویل چلانا ، پانی نکالنا  اور فروخت کرنا سب کام دونوں کرتے ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شرکت کے لیے اصلا نقد پیسہ ہونا چاہیے تاہم اگر شرکت کے لئے نقد رقم پیش کرنے کی بجائے کوئی اور سامان پیش کیا جائے گا تو اس کی قیمت لگانا ضروری ہے اور قیمت لگانے میں اس وقت کی  قیمت فروخت کا  اعتبار ہوگا قیمت خرید کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (تبویب 57648 (

مزید یہ کہ شرکت  بالمال میں نفع دنوں کے حساب سے نہیں بلکہ نفع کے فیصد کے حساب سے تقسیم کیا جاتا ہےمثلاًحاصل ہونے والے کل نفع کا 60 فیصد ایک شریک کا اور 40 فیصد دوسرے شریک کا مقرر کر سکتے ہیں ۔جب عمل دونوں شریک کریں تو اس طرح نفع کی تقسیم کے لیے باہمی رضامندی سے کوئی بھی نسبت طے کر سکتے ہیں اور نقصان سرمایہ کے تناسب سے ہی برداشت کیا جاتا ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ دونوں طرف سے سامان ہے کہ ایک فریق کی طرف سے ٹیوب ویل اور 18 شمسی پینل ہیں جبکہ دوسری طرف سے 12 شمسی پینل ہیں تو  اس سامان (تیار ٹیوب ویل  اور شمسی پینل ) کی قیمت لگا لی جائے اور جو قیمت لگے اس کو اس شریک کا  سرمایہ شمار کیا جائے گا اور دوسرے شریک کے فراہم کردہ پینل کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت لگالی جائے اور اس قیمت کو اس کا سرمایہ شمار کیا جائے ۔اس طرح عقد کر لینے کے بعد ٹیوب ویل اور پینل سمیت یہ پورا پروجیکٹ ان دونوں شرکاء کا مشترک ہو جائے گا اور پھر پانی بیچنے سے جو نفع ہوگا اخراجات نکالنے کے بعد طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوگا اگر کسی  بھی وجہ سے کوئی نقصان ہوگا تو اس کو دونوں شریک اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت کریں گے۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(3/ 15):

شركة الملك هي كون الشيء مشتركا بين أكثر من واحد أي مخصوصا بهم بسبب من أسباب التملك كالاشتراء والاتهاب وقبول الوصية والتوارث أو بخلط، واختلاط الأموال يعني بخلط الأموال بعضها ببعض بصورة لا تكون قابلة للتمييز والتفريق أو باختلاط الأموال بتلك الصورة بعضها ببعض.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 26):

 (المادة 1073) - (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88) . الحاصلات: هي اللبن والنتاج والصوف وأثمار الكروم والجنائن وثمن المبيع وبدل الإيجار والربحوما أشبه ذلك.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 423):

«يقسم الضرر والخسار في كل حال بنسبة مقدار حصة الشريكين في المال المشترى سواء باشرا عقد الشراء معا أو باشره أحدهما فقط»

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

09/صفر المظفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب