| 88028 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
- زید اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ایک مشترکہ گھر میں رہتا ہے ، مکان دونوں کے نام ہے اور دونوں کی ملکیت برابر ہے ۔ مکان کے کاغذات بڑے بھائی کے پاس ہیں ۔ مکان تقریباً 70 سال پرانا ہے اور خستہ حال میں ہے۔ زید نے بڑے بھائی سے کہا کہ ہمیں یہ مکان بیچ کر اپنا اپنا ذاتی مکان، کہیں بہتر جگہ اور بہتر مکان خرید لینا چاہیے ۔ مگر بڑے بھائی کا اصرار ہے کہ نہیں یہ جگہ بہتر ہے اور یہں رہیں گے ۔ زید کا مطالبہ ہے کہ اسے اس کا حصہ دے دیا جائے تاکہ وہ علیحدہ ہو جائے ، زید کا کہنا ہے کہ آج دونوں بھائیوں کی مکان بیچنے پر ذہنی ہم آہنگی نہیں ہو رہی تو یہ معاملہ مستقبل میں مسائل بڑھیں گے، رشتے داری میں فرق اور قطع رحمی کا اندیشہ ہے ۔ مستقبل میں وراثت کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن بڑے بھائی زید کی کی بات سے متفق نہیں ہو رہے۔
- کیا زید کا مکان بیچ کر اپنا حصّہ مانگنے کا مطالبہ شرعاً جائز ہے ؟
- بڑے بھائی کا مکان بیچنے سے انکار اور زید کا حصہ نہ دینا کیا شرعاً درست ہے ؟
- کیا قطع رحمی اور مستقبل میں وراثت کی تقسیم میں پیچیدگی سے بچنے کے لیے دونوں بھائیوں کا الگ الگ مکان خریدنا شریعت میں بہتر ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- صور ت مسئولہ میں زید چونکہ مشترکہ گھر میں نصف کا شرعاً مالک ہے، اس لیے وہ گھر کی تقسیم کرکے اپنا متعین حصہ لینے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
- بھائی اگر گھر نہ بیچنا چاہیں تو وہ زید کا حصہ خرید سکتے ہیں ۔تاہم اگر وہ مالی استعداد نہ رکھتے ہوں تو انہیں زید کے مطالبہ پر گھر بیچ کر زید کا حصہ ادا کرنا ضروری ہے۔
دونوں بھائی ایک دوسرے کے مصالح سمجھتے ہوں گے۔ بہتر یہ ہے کہ آپس میں باہمی رضامندی اور خاندان کے کسی بڑے،سمجھدار اور دیندار آدمی سے مشورہ کرکے کوئی مناسب فیصلہ کرلیں،تاکہ لڑائی جھگڑے کا خطرہ نہ ہو۔
حوالہ جات
والثاني: أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع فإن كان لا ينعقد كالمرهون والمستأجر؛ لأن فيه إبطال حق المرتهن والمستأجر وهذا لا يجوز. (بدائع الصنائع:5/ 155)
ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده إلا السلم،......وأما شرائط النفاذ فنوعان أحدهما: الملك أو الولاية .والثاني: أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع.(الفتاوى الهندية:3/3)
لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملك غیرہ بلا إذنہ أو وکالۃ منہ أو ولایۃ علیہ، وإن فعل کان ضامنا.
(شرح المجلۃ لرستم باز:۱/مادۃ96)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
16/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


