| 87889 | روزے کا بیان | رمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان |
سوال
ہمارے ملک پاکستان میں" عرفہ " کا دن سعودی عرب کے عرفہ کے دن کے مطابق ہوگا یا ہمارے ملک کی اسلامی تاریخ کے مطابق ہوگا جو کہ ایک دن بعد ہوتا ہے اور سعودی عرب میں عید کا دن ہوتا ہے؟ یہاں ہمارے علاقے میں بعض لوگ عرفہ میں سعودی عرب کے ساتھ مطابقت پر زور دیتے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ عرفہ نہ کرنے کو جہالت کہتے ہیں،مہربانی کرکے وضاحت فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فقہاء اکرام نے نو ذی الحجۃ کویوم عرفہ کہنے کی مختلف وجوہات ذکر کی ہیں:
- حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نو ذو الحجہ کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسکِ حج سکھائے تھے، اس لیے اس دن کو مناسکِ حج کی معرفت حاصل ہونے کی وجہ سے یومِ عرفہ کہا جاتا ہے۔
- حضرت ابراہیم نے آٹھ ذو الحجہ کی رات خواب میں اپنے بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا، اگلے دن اس خواب کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےکے بارے میں سوچتے رہے، پھر نو ذو الحجہ کی رات یہی خواب نظرآیا تو انہیں اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے کا یقین ہوگیا، چنانچہ نو ذوالحجہ کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہونے کی بنا پر اس دن کویومِ عرفہ کہا جاتا ہے۔
- نو ذو الحجہ کو حج کرنے والے میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں، اس لیے اس دن کویومِ عرفہ کہا جاتا ہے۔
مذکورہ تفصیل سے واضح ہوگیا کہ نو ذی الحجۃ کے دن کو اسلام سے پہلے سے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر یومِ عرفہ کہا جاتا رہا ہے ۔لہذا یہ سمجھنا کہ یہ لازمی طور پر وہی دن ہے جس دن حاجی عرفات میں جمع ہوتے ہیں ،درست نہیں۔چونکہ پاکستان اور سعودی عرب میں چاند کی رؤیت میں عموماً فرق ہوتا ہے، لہذا رمضان کاروزہ، عیدین ودیگر عبادات کی طرح اس دن کے حوالے سے بھی ہمارے ملک میں مقامی رؤیت کا اعتبار ہوگا، نہ کہ سعودیہ کی رؤیت کا ، مقامی رؤیت کے اعتبار سے نو ذو الحجہ ہی یوم عرفہ کہلائے گا، اور اسی دن عرفہ کا روزہ رکھا جائے گا۔سعودی عرب کے ساتھ عرفہ نہ کرنے کو جہالت کہنا سراسر بے بنیاد بات ہے ۔
حوالہ جات
وإنما سمي يوم عرفة؛ لأن جبريل علیہ السلام علم إبراهيم علیہ السلام المناسك كلها يوم عرفة، فقال: أعرفت في أي موضع تطوف؟ وفي أي موضع تسعى؟ وفي أي موضع تقف؟ وفي أي موضع تنحر وترمي؟ فقال: عرفت،فسمي يوم عرفة. (البناية شرح الهداية:4/211)
إنما سمي بذلك لأن إبراهيم عليه الصلاة والسلام رأى ليلة التروية كأن قائلا يقول له: إن الله يأمرك بذبح ابنك هذا، فلما أصبح تروى: أي تفكر في ذلك من الصباح إلى الرواح أمن الله تعالى هذا الحلم أم من الشيطان؟ فمن ثمة سمي يوم التروية. فلما أمسى رأى مثل ذلك، فعرف أنه من الله تعالى، فمن ثم سمي يوم عرفة.(العناية شرح الهداية:2/ 467).
فأما يوم عرفة فهو اليوم التاسع من ذي الحجة، سمي بذلك؛ لأن الوقوف بعرفة فيه، وقيل: سمي يوم عرفة؛ لأن إبراهيم عليه السلام أري في المنام ليلة التروية أنه يؤمر بذبح ابنه، فأصبح يومه يتروى هل هذا من الله أو حلم؟ فسمي يوم التروية، فلما كانت الليلة الثانية رآه أيضاً، فأصبح يوم عرفة، فعرف أنه من الله؛ فسمي يوم عرفة، وهو يوم شريف عظيم، وعيد كريم، وفضلة كبير، وقد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم أن صيامه يكفر سنتين. (المغني لابن قدامة :3/112)
هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر؛ لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف، فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر.(بدائع الصنائع:2/83)
وقال الزيلعي شارح الكنز : إن عدم عبرة اختلاف المطالع إنما هو في البلاد المتقاربة لا البلاد النائية ... وقست هذه المسألة على ما في كتب الشافعية : من صلى الظهر ثم بلغ في الفور بموضع لم يدخل فيه وقت الظهر إلى الآن أنه يصلي معهم أيضاً، والله أعلم وعلمه أتم ، وكنت قطعت بما قال الزيلعي، ثم رأيت في قواعد ابن رشد إجماعاً على اعتبار اختلاف المطالع في البلدان النائية ، وأما تحديد القرب والنائي فمحمول إلى المبتلى به، ليس له حد معين وذكر الشافعية في التحديد شيئاً. (العرف الشذي للعلامةالكشميري :2/217)
أخرج الإمام مسلم في صحيحه(رقم الحدیث:1087) من حديث كريب أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام. قال: فقدمت الشام. فقضيت حاجتها. واستهل علي رمضان وأنا بالشام. فرأيت الهلال ليلة الجمعة. ثم قدمت المدينة في آخر الشهر. فسألني عبد الله بن عباس رضي الله عنهما. ثم ذكر الهلال فقال: متى رأيتم الهلال فقلت: رأيناه ليلة الجمعة. فقال: أنت رأيته؟ فقلت: نعم. ورآه الناس. وصاموا وصام معاوية. فقال: لكنا رأيناه ليلة السبت. فلا تزال نصوم حتى نكمل ثلاثين. أو نراه. فقلت: أو لا تكتفي برؤية معاوية وصيامه؟ فقال: لا. هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم. (2/ 765 )
الرؤیۃ تختلف بحسب اختلاف المطالع۔ وقد ذھب جمع من اھل العلم منھم ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ إلی أن لأھل کل بلدرؤیتھم (مجموع فتاوی ابن باز:15/98)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


