| 87860 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
میں جس ادارے میں ملازمت کررہا ہوں ،اس کی مسجد کے امام صاحب بدعتی ہیں، جن کے عقائد درست نہیں ہیں۔میں ان کے پیچھے نماز ادا نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے اپنے ایمان اور نماز کے خراب ہونے کا بہت ڈر ہے ،تو اب میں اپنے دفتر میں یا مسجد جاکر اپنی نماز ادا کرلیا کروں لیکن اپنی نماز ادا کرکے باہر نکلنے کا جب وقت ہوگا تو عجیب لگتا ہے اور دفتر میں ہوں گا یا کھانا کھانے جاوں گا تو جماعت کے وقت میں مناسب نہیں ہے ،جس کی وجہ سے مس والے کو بھی نماز میں مشکل ہوگی۔ میں سنت داڑھی اور ٹوپی کا بھی پابند ہوں۔ میں یہ سوچ رہا ہوں کے اپنی نماز ادا کرلوں، جب جماعت ہوگی تو میں صف میں کھڑا ہوکر بغیر امام کی نیت کے اپنی نفل نماز ادا کرلوں یا امام کے پیچھے نفل نماز کی نیت کرلوں یا مشرک امام کے پیچھے قضا نماز کی نیت کرلیا کروں۔ براہ مہربانی راہنمائی فرما دیں کیونکہ میں ہر امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے پہلے اس کے عقائد پوچھتا ہوں کہ اس بدعتی کے عقائد کیا ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امام کے عقائد اگر کفر وشرک کی حد تک پہنچے ہوئے نہ ہوں، بلکہ بدعات کا مرتکب ہی ہو، تو اگرچہ عام حالا ت میں اپنے اختیار سے ایسے شخص کو امام بنانا یا اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے،لیکن اگر کسی نے پڑھ لی تو نماز ادا ہو جائے گی ،اُس نماز کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔لہذاحتی الامکان کسی ایسے امام کے پیچھےنماز ادا کی جائے جو صحیح عقیدہ والا اور متبعِ سنت ہو، تاہم اگر صحیح العقیدہ امام میسر نہ ہو یا اُس کے پیچھےباجماعت نماز ملنے کی امید نہ ہو تو ایسی صورت میں جماعت کی نماز نہیں چھوڑنی چاہیے اکیلے نماز پڑھنے سے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا بہتر ہے۔ بریلوی حضرات کے جو عقائد قابل اعتراض ہیں،ان میں وہ تاویل کرتے ہیں ۔لہذا خواہ مخواہ کسی امام سے اس کے عقائد پوچھنا اور بلا ضرورت تحقیق کرنا ، خاص کر جب فتنے کا خدشہ بھی ہو تو یہ ایک غیر ضروری امر ہے،اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
(التبویب،فتویٰ نمبر:84437
محمد علی
دارالافتا ء جامعۃ الرشید ،کراچی
5/محرم الحرام،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / شہبازعلی صاحب |


