03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی محنت سے کمائی گئی رقم میں بہن کا حصہ
88341تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

عرض یہ ہے کہ میں علیم گل عرف “شاہد” ولد نسیم ہوں۔ میری  بہن سلمیٰ بی بی ہے۔ ہم دونوں بہن بھائی بچپن سے اپنے نانا نانی کے ساتھ ہی پلے بڑھے۔ ہماری پرورش والدہ نے بغیر والد کے کی، کیونکہ ہمارے والد موجود نہیں تھے۔ والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں اور کوئی معاشی سہارا نہیں تھا۔بہت کم عمری میں اللہ نے میرے لیے رزق کے دروازے کھولے اور میں روزگار کے لیے سعودیہ گیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے میں نے اپنی کمائی سے ایک گھر بنایا اور کچھ سالوں بعد دو دکانیں بھی خریدیں۔ یہ دکانیں خریدنے کے لیے میں نے اپنی کمائی سے پیسہ بھیجا تھا۔ چونکہ میں خود وہاں موجود نہیں تھا، اس لیے دکانوں کے تمام معاملات اور کاغذات میری والدہ نے ہی مکمل کیے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ دکانوں کے کاغذات والدہ کے نام پر بنائے گئے ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ شرعاً کیا ان دکانوں میں میری بہن کا بھی حصہ بنے گا یا نہیں؟ میں واضح کر دوں کہ ان دکانوں کی خریداری کے سارے اخراجات خالص میری اپنی کمائی سے کیے گئے تھے، والدہ یا کسی اور کا اس میں کوئی مالی حصہ شامل نہیں تھا۔میری فکر صرف یہ ہے کہ یہ دکانیں میرے بیوی بچوں کے لیے محفوظ رہیں اور ان کا حق انہیں ملے۔ براہِ کرم اس بارے میں شرعی اور قانونی رہنمائی فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں جو جائیداد آپ   نے اپنی محنت اور ذاتی کمائی سے خریدی ہے اور اسے اپنی ملکیت میں رکھا ہوا ہے، وہ آپ کی ہی ملکیت  میں رہے گی ۔والدہ یا  بہن کا اس میں حصہ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ جائیداد والدہ کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں  جب آپ نے اپنی محنت مزدوری کرکے مال کمایا ہے تو آپ  اس کے مالک ہیں، جب تک آپ  حیات ہیں کسی دوسرے کا آپ کے مال میں حق نہیں ہے،  اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہے۔نیز جائیدادکا محض کسی کے نام پر ہونا ملکیت کےلیے کافی نہیں ہے بلکہ اسباب ملک میں سے کسی سبب کا پایاجاناضروری ہے ۔

البتہ والدہ کمانے کے قابل نہیں ہیں، اور تنگ دست  ہیں، اپنا خرچہ خود نہیں اٹھاسکتی اور آپ  کے پاس مال ہے تو آپ  پر والدہ کا نان ونفقہ لازم ہے۔

اسی طرح اگر بہن غیر شادی شدہ ہے اور تنگ دست ہے،اور خود ان کے پاس بھی مال نہیں ہے  تو آپ  پر ان کا نفقہ لازم ہوگا۔

حوالہ جات

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ( ج:2،ص:18):

(أقول) وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه."

البحر الرائق(4 / 223)::
"(قوله: ولأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء أما الأبوان فلقوله تعالى: {وصاحبهما في الدنيا معروفًا} [لقمان: 15]، أنزلت في الأبوين الكافرين، وليس من المعروف أن الابن يعيش في نعم الله تعالى ويتركهما يموتان جوعًا، وأما الأجداد والجدات فلأنهما من الآباء والأمهات، ولهذا يقوم الجد مقام الأب عند عدمه؛ ولأنهم تسببوا لإحيائه فاستوجبوا عليه الإحياء بمنزلة الأبوين وشرط الفقر؛ لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره".

وفیہ ایضا (4 / 228)::
"(قوله: ولقريب محرم فقير عاجز عن الكسب بقدر الإرث لو موسرًا) أي تجب النفقة للقريب إلى آخره؛ لأن الصلة في القرابة القريبة واجبة دون البعيد". 

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

09/صفر المظفر /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب