03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صاحب ِ حیثیت کی طرف سے بیواؤں کو زکوۃ کی رقم دینے حکم
88321زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

ہمارے ایک جاننے والے صاحبِ حیثیت شخص   ہیں، جن کے پاس متعدد جائیدادیں موجود ہیں، لیکن ایک عدالتی مقدمے کے باعث وہ فی الحال کوئی پراپرٹی فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے پاس دو بیواؤں نے کچھ رقم انویسٹ کی ہوئی ہےاور وہ ان کی رقم واپس کرنا چاہتے ہیں، مگر اس وقت ان کے پاس نقد رقم موجود نہیں ہے۔

میرا سوال یہ ہے ایسی صورت میں کیا ہم ان بیواؤں کو ان کی طرف سے زکوۃ کی رقم دے سکتے ہیں ؟تاکہ ان کا گھر کا خرچہ چلتا رہے۔

تنقیح: سائلہ نے فون پر بتایا کہ وہ اپنی زکوٰۃ  بیواؤں کو ان صاحبِ حیثیت کی طرف سے دینا چاہتی ہے، تاکہ  ان بیواؤں کی رقم جو ان صاحب کے ذمے  ہےوہ ساقط ہوجائے، اور بیواؤں کو رقم بھی مل جائے تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں مال تو ہو، لیکن وہ اس کے قبضے یا اس کے  تصرف میں نہ ہو، اور اس کے واپس ملنےيا اس سے دوبارہ انتفاع حاصل کرنے  کی کوئی امید بھی نہ ہو تو ایسے مال کو "مال ِضمار"کہا جاتا ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، البتہ اگر اس مال کے واپس ملنے یا اس سے فائدہ حاصل کرنے  کی امید ہو تو اس صورت میں اس پر زکوٰۃواجب ہو گی ۔

 صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص  اگرچہ عدالتی مقدمے کی وجہ سے عارضی طور پر اپنی پراپرٹی فروخت کرنے اور اس سے انتفاع حاصل کرنے سے قاصر ہے تو ایسی صورت میں اس کی  پراپرٹی "مالِ ضمار" کے حکم میں نہیں، لہٰذا وہ شخص شرعاً مالدار شمار ہوگا اور زکوٰۃ کا مستحق نہ ہوگا،اس لیےآپ کا  اپنی زکوٰۃ نہ خود اس صاحب حیثیت کو دینا جائز ہے اور نہ ہی  بیواؤں کو ان صاحبِ حیثیت کی طرف سے دینا جائز ہے۔

البتہ اگر عدالتی مقدمہ ایسا ہے کہ اس کی وجہ سے پراپرٹی فروخت کرنے اور اس سے انتفاع اٹھانے کی کوئی امید باقی نہیں  تو اب دو صورتیں ہیں :

(۱)اگر اس پراپرٹی کو منہا کرنے کے بعد بھی مذکورہ شخص صاحبِ نصاب ہو ( اس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات سے زائد نصاب کے بقدر دوسرا مال یا سامان موجود ہو) تو وہ مالدار ہی شمار ہوگا، لہٰذا س صورت میں بھی  اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں،اور نہ ہی ان کی طرف  سے بیواؤں  کو رقم دینا جائز ہے۔

(۲)اگر پراپرٹی کو منہا کرنے کے بعد وہ صاحبِ نصاب نہ رہے ( اس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات سے زائد  نصاب کے بقدر دوسرا مال یا سامان بھی موجود نہ ہو)،توایسی صورت میں  وہ زکوٰۃ  کا مستحق ہوگا،اس لیے  اسے زکوٰۃ دینا یا اس کی  اجازت سے  وہ رقم بیواؤں کو دینا بھی درست ہوگا۔ اس صورت میں جتنی رقم بیواؤں کو دی جائے گی وہ  اس کے ذمے سے ساقط ہو جائے گی۔

البتہ مذکورہ شخص کے  زکوۃ کے  مستحق نہ ہونے کی صورت میں  سائلہ اپنی   زکوۃ   براہ راست ان بیواؤں کو دے سکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ بیوائیں  مستحق بھی ہوں، اور ان کا تعلق سید گھرانے سے بھی نہ ہو۔نیز اس صورت میں ان بیواؤں کی انویسٹ کردہ رقم اس صاحب کے ذمہ باقی رہے گی ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 9):

ولنا ما روي عن علي رضي الله عنه موقوفا عليه ومرفوعا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «‌لا ‌زكاة ‌في ‌مال ‌الضمار» وهو المال الذي لا ينتفع به مع قيام الملك مأخوذ من البعير الضامر الذي لا ينتفع به لشدة هزاله مع كونه حيا، وهذه الأموال غير منتفع بها في حق المالك؛ لعدم وصول يده إليها فكانت ضمارا؛ ولأن المال إذا لم يكن مقدور الانتفاع به في حق المالك لا يكون المالك به غنيا ولا زكاة على غير الغنى بالحديث الذي روينا .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (2/ 266):

قوله ‌لا ‌زكاة ‌في ‌مال ‌الضمار) الضمار بالضاد المعجمة بوزن حمار. قال في البحر: وهو في اللغة الغائب الذي لا يرجى، فإذا رجي ليس بضمار.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 189):

لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي.

عمار بن عبد الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

09/صفرالمظفر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عماربن عبدالحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب