03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فلاحی ادارہ قائم کرنے کے قواعدو ضوابط
87918جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہم اپنے ادارے کے تحت ایک چھوٹا سا فلاحی ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔کن شرائط کے ساتھ ادارہ قائم کیا جائے؟

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی شرائط کی رعایت کے ساتھ   فلاحی ادارہ قائم کرنا ایک نہایت اہم اور مستحسن عمل ہے، تاہم پہلے سے کافی ادارے یہ کام کرتے چلے آرہے ہیں ،مزید کوئی نیا   ادارہ قائم کرنے کے بجائے کسی  سابق مستند ادارہ سے مل کر کام کیا جائے ،اگر آپ واقعتا یہ سمجھتے ہیں کہ نیا ادارہ کھولنا ضروری ہے اور اس طرح پہلے سے کوئی خاطر خواہ کام نہ ہورہا ہو تو پھر شرعی وانتظامی ماہرین (مستند علماءومفتیان کرام وشعبہ مالیات وحسابیات کے مستند ماہرین) کی ایک رجسٹرڈ کمیٹی کی معاونت ہی سے اس کام کو شروع کیا جائے۔  ایسے ادارے کے قیام کے لیے درج ذیل چند شرائط اور اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

1. نیت (اخلاص): سب سے پہلی اور بنیادی شرط نیت کی درستگی ہے۔ ادارہ محض اللہ کی رضا، خلقِ خدا کی خدمت اور اجرِ آخرت کے لیے قائم کیا جائے، شہرت، سیاسی مقاصد، یا دنیاوی مفادات پیشِ نظرنہ  ہوں۔

2. شریعت کی موافقت: ادارے کے تمام مقاصد، طریقۂ کار، اور سرگرمیاں اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہوں۔کسی حرام کام، سود، دھوکہ دہی یا غیر اسلامی افعال میں ملوث نہ ہو۔

3. شفافیت: مالی معاملات میں مکمل شفافیت ہو۔ چندہ، زکوٰۃ، صدقات یا عطیات کا واضح حساب رکھا جائے۔

4. مستحقین کی پہچان: ادارہ اس بات کو یقینی بنائے کہ فلاحی امداد صرف حقدار،مستحق اور ضرورت مند افراد تک پہنچے۔

5. زکوٰۃ و صدقات کی شرعی تقسیم: اگر ادارہ زکوٰۃ یا صدقات جمع کر رہا ہے تو اسے مستحقین کو مالک بنا کردیاجائے۔

6. مشورہ و نظم: ادارے کے معاملات مخلص شوری کے مشورےاورانتظامی تقاضوں کے مطابق چلایاجائے۔

7. حکومتِ وقت کے قوانین کی پاسداری (اگر شرعی اصولوں سے متصادم نہ ہوں): اگر کوئی ریاستی قانون اسلامی اصولوں سے متصادم نہ ہو تو اس کی پابندی بھی ضروری ہے۔ 

8. مساوات و غیر امتیازی سلوک: ادارہ ہر رنگ، نسل، قوم یا فرقے سے بالاتر ہو کر انسانیت کی بنیاد پر خدمات انجام دے۔

حوالہ جات

عمار بن عبد الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

28 /ذی الحجہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عماربن عبدالحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب