03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عیب شدہ زمین کےاقالے کاحکم
88155خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کو ختم کرنے کے مسائل

سوال

 ایک شخص نے 2023 میں ایک کروڑ روپے میں زمین فروخت کی۔ اس نے نقد بیعانہ کے طور پر بیس لاکھ روپے وصول کیے، جبکہ باقی اسی لاکھ روپے بطور قرض طے پائے، جو ایک سال کے اندر ادا کرنا تھے۔ تاہم مشتری (خریدار) باقی رقم کا بندوبست نہ کر سکا اور اب وہ زمین واپس کرنا چاہتا ہے۔اس دوران مشتری نے مذکورہ زمین پر سبزیاں اور غلہ کاشت کیا، اور دیگر طریقوں سے بھی اس زمین سے فائدہ اٹھاتا رہا۔اب بائع (فروخت کنندہ) اقالہ کرنا چاہتا ہے، یعنی معاملہ ختم کر کے زمین واپس لینا چاہتا ہے، اور وہ بیعانہ کی رقم (بیس لاکھ روپے) بھی واپس کرنے پر آمادہ ہے۔ مگر وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ چونکہ مشتری کو اس عرصے میں زمین سے فصل کی صورت میں فائدہ ہوا ہے اور بائع کو سراسر نقصان اٹھانا پڑا، تو کیا وہ اس نقصان کی تلافی کے لیے کوئی شرعی یا قانونی طریقہ اختیار کر سکتا ہے؟ اور اگر ہاں، تو وہ طریقہ کیا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   واضح رہے کہ جب بائع نے ایک کروڑ روپے کے عوض اپنی زمین فروخت کی تو یہ زمین مشتری کی ملکیت میں داخل ہوگئی۔ لہٰذا مشتری نے اپنی مملوکہ زمین سے جو بھی فائدہ اٹھایا، وہ شرعاً درست تھا۔ اب اگر مشتری قیمت ادا کرنے سے عاجز ہو جائے اور اقالہ (باہمی رضامندی سے عقد کو ختم ) کرنا چاہے، اور بائع بھی اس پر راضی ہو، تو بائع صرف اتنی ہی رقم واپس کرے گا جتنی مشتری نے اب تک ادا کی ہے۔ البتہ اگر مشتری کی کاشت کاری یا استعمال کی وجہ سے زمین کو نقصان پہنچا ہو تو بائع کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس نقصان کی مالیت مشتری سے وصول کرے۔نیزاگر خریدار اپنی مرضی سے بغیر کسی جبرودباؤکےاس زمین کے استعمال کی وجہ سےکچھ اضافی رقم دےدے تو یہ بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني» (7/ 45):

وإن تقايلا بخمسمائة فإن كان العبد قائما في يد المشتري على حاله لم يدخله عيب صحت الإقالة بألف ويلغوذكر الخمسمائة، فيجب على البائع رد الألف ، وإن دخله عيب تصير ‌إقالة بخمسمائة ويصير المحطوط بإزاء نقصان ‌العيب؛ لأنه لما احتبس عند المشتري جزء من المبيع جاز أن يحتبس عند البائع بعض الثمن.

 عمار بن عبد الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25/محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عماربن عبدالحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب