| 88428 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میرے گھر والوں اور میری بیوی کے گھر والوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ اس کے بعد میرے والد مسلسل مجھ پر ذہنی دباؤ ڈالتے رہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں۔ ابتدا میں میں نے یہ سمجھا کہ شاید والد صاحب اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں، لیکن ان کا اصرار بڑھتا گیا، جس کی وجہ سے میں سخت پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔آخرکار ایک دن والد صاحب طلاق نامہ لے آئے اور مجھ سے اس پر دستخط کرنے کو کہا۔ میں شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کی حالت میں تھا، اس لیے میں نے اس پر دستخط کردیے۔ اس کے بعد والد صاحب نے میری اجازت کے بغیر ہی وہ طلاق نامہ میری بیوی کے گھر والوں کو بھیج دیا۔میرا سوال یہ ہے کہ اس صورت میں میرے دستخط کرنے سے شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق جس طرح اپنی مرضی سے دینے سے واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح ذہنی دباؤ میں دی جانے والی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے، بشرطیکہ دباؤ ڈالنے والے کی طرف سے شرعی طور پر اکراہ کی صورت نہ ہو۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ نے محض ذہنی دباؤ کی حالت میں (جبکہ دباؤ ڈالنے والے کی طرف سے ایسی کوئی دھمکی نہیں تھی جس سے شرعا اکراہ متحقق ہوجاتا ہے ) منسلکہ طلاق نامہ پر طلاق کے مضمون کو جان کر دستخط کیے ہیں، تو اس طلاق نامے کے مطابق آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ وہ حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ آپ پر حرام ہوگئی ہے اور نکاح ختم ہوگیا ہے۔ اب رجوع جائز نہیں اور دوبارہ موجودہ حالت میں نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔طلاق کے وقت سے آپ کی بیوی اپنی عدت گزارے گی، اگر حمل نہ ہو تو تین ماہواریاں، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک۔ اس کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
(ردالمحتار : 3/ 246
"ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع."
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - ﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَه مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَه﴾[البقرة: 230] ،وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة." )البدائع الصنائع : 3/ 187(
(الفتاوى الهندية :1/ 472)
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."
(الدر المختارمع ردالمحتار:6/ 129)
"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير(أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا."
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
28صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


