| 88370 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں یہ گھر ہماری والدہ کو بطور تحفہ دے دیا تھا،اور قبضہ بھی دیاتھا ، اور یہ پراپرٹی قانونی طور پر بھی اب والدہ کے نام پر ہے۔ چونکہ اب والدہ کی طبیعت ناساز رہتی ہے، اس لیے ہم اس گھر کو والدہ کی اجازت سے فروخت کررہے ہیں۔ہم بھائی بہن اب اپنا الگ گھر لینا چاہتے ہیں، لیکن ہمارے پاس رقم کچھ کم ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہم نے طے کیا ہے کہ اب جس گھر کو ہم خریدنے جارہے ہیں اس میں ہم اپنے بہنوئی کو شامل کررہےہیں، کچھ پیسے وہ دیں گے اور باقی ہم کرلیں گے نیا گھر خریدنے کے لیے ، اور جب اس گھر کی قیمت بڑھ جائے، تو ہم اور بہنوئی اسے فروخت کرنا چاہیں گے تاکہ سب کو نفع حاصل ہو۔ براہِ کرم یہ رہنمائی فرمائیں کہ فروخت کی صورت میں تقسیم کس طرح کی جائے گی؟
تنقیح : ہم اس وقت جس گھر میں والدہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، اُسے فروخت کرکے کسی اور جگہ الگ گھر خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں، جو گھر آپ کی والدہ کا ہے اور آپ اسے فروخت کریں گے، اس کی تمام رقم اصلاً آپ کی والدہ کی ہوگی۔ لہٰذا اگر اس رقم اور بہنوئی کی رقم کو ملا کر آپ کوئی اور گھر خریدیں، تو اس نئے گھر میں آپ کی والدہ اور بہنوئی کی ملکیت اسی تناسب سے ہوگی، جس تناسب سے انہوں نے رقم شامل کی ہے۔البتہ اگر والدہ اپنا گھر اپنی تمام اشیاء سے خالی کرکے آپ بہن بھائیوں کو ہبہ کر دیں، اور تقسیم کے لیے کسی ایک کو وکیل مقرر کر دیں، یا گھر فروخت ہو جائے اور حاصل شدہ رقم آپ بہن بھائیوں میں تقسیم کر دی جائے، تو اس صورت میں جو گھر آپ خریدیں گے، اس میں والدہ کی جگہ آپ بہن بھائی بہنوئی کے ساتھ شریک ہوں گے۔ اس میں بھی ہر ایک کا حصہ اسی تناسب سے ہوگا، جس تناسب سے اس نے رقم شامل کی ہے۔لہٰذا گھر کی تقسیم ملکیت کے تناسب سے ہوگی۔ یعنی آپ جتنے حصے کے مالک ہوں گے، فروخت کی قیمت میں آپ کو اتنا ہی حصہ ملے گا، اور بہنوئی کو ان کی ملکیت کے مطابق حصہ دیا جائے گا۔
حوالہ جات
(البدائع الصنائع : 7/ 500)
الشركة في الأصل نوعان: شركة الأملاك، وشركة العقود وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما. (أما) الذي يثبت بفعلهما فنحو أن يشتريا شيئا، أو يوهب لهما، أو يوصى لهما، أو يتصدق عليهما، فيقبلا فيصير المشترى والموهوب والموصى به والمتصدق به مشتركا بينهما شركة ملك.
(الفتاوي الهندية : 2/ 320)
الشركة نوعان شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما، كذا في التهذيب...وركنها اجتماع النصيبين، وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط، كذا في الكافي.ؔ
(الموسوعة الفقهية الكويتية : 26 / 23)
لكل شريك في شركة الملك أن يبيع نصيبه لشريكه، أو يخرجه إليه عن ملكه على أي نحو، ولو بوصية، إلا أن المشترك لا يوهب دون قسمة، ما لم يكن غير قابل لها. وسيأتي استثناء حالة الضرر. هكذا قرره الحنفية. وهو في الجملة محل وفاق - إلا أن هبة المشاع سائغة عند جماهير أهل العلم بإطلاق: كما قرره المالكية والشافعية والحنابلة.
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
16 ٖصفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


