| 88383 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
اگر کسی شخص کے رومال میں خون لگ جائے اور وہ درہمِ شرعی سے زائد ہو، مگر وہ اسے جیب میں رکھ کر بھول جائے اور اس کے ساتھ نماز پڑھ لے، تو کیا وہ نماز ہو گئی یا اس نماز کا اعادہ اس پر واجب ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور نجس رومال جیب میں رکھنے کی وجہ سے حاملِ نجاست کے حکم میں ہے، اور اس حالت میں نماز شرعاً ادا شمار نہیں ہوتی، لہٰذا ایسے شخص پر اس نماز کا اعادہ لازم ہے۔ اگر خون ایک درہم کی مقدار سے زیادہ موجود نہ ہوتا تو ایسی صورت میں نماز ہو جاتی اور اعادہ کی ضرورت نہ رہتی۔
خون قدردرہم یااس کم ہونے کی صورت میں بھی یاد ہوتے ہوئے اس کے ساتھ نماز پڑھنا پسندیدہ نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی:
(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل.
وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی:
والأقرب أن غسل الدرهم وما دونه مستحب مع العلم به والقدرة على غسله، فتركه حينئذ خلاف الأولى، نعم، الدرهم غسله آكد مما دونه، فتركه أشد كراهة. (ردالمحتار: 316,317/1)
وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی:
(وثوبه) وكذا ما يتحرك بحركته، أو يعد حاملا له كصبي عليه نجس إن لم يستمسك بنفسه منع، وإلا لا.
وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی:
قوله: (وكذا ما) أي شيء متصل به يتحرك بحركته كمنديل طرفه على عنقه، وفي الآخر نجاسة مانعة إن تحرك موضع النجاسة بحركات الصلاة منع، وإلالا، بخلاف ما لم يتصل كبساط طرفه نجس، وموضع الوقوف والجبهةطاهر فلا يمنع مطلقا. (ردالمحتار: 402/1)
وفي الفتاوى الهندية:
في النصاب رجل صلى و في كمه قارورة فيها بول لا تجوز الصلاة سواء كانت ممتلئة أو لم تكن؛ لأن هذا ليس في مظانه ومعدنه بخلاف البيضة المذرة؛ لأنه في معدنه ومظانه وعليه الفتوى. كذا في المضمرات. (1/ 62)۔
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
18/2/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


